حیاۃ الصحابہ اردو جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اُن کا لباس معمولی اور سیدھا سادا ہے، اُن کا کوئی پہرے دار اور محافظ نہیں ہے، اُن کے سامنے لوگ اپنی آواز بلند نہیں کرتے ہیں۔ حضرت دِحیہؓ فرماتے ہیں کہ پھر یہ خبر آگئی کہ کسریٰ ٹھیک اسی رات قتل کیا گیا جو رات آپ نے بتائی تھی۔ 1حضورﷺ کا شاہِ اِسکندر یہ مُقَوْقِس کے نام گرامی نامہ حضرت عبداللہ بن عبدِ قاری ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے حضرت حاطب بن ابی بلتعہؓ کو شاہِ اِسکندر یہ مُقَوْقِس کے پاس بھیجا۔ وہ حضورﷺ کا خط لے کر اُن پاس پہنچے ۔ مُقَوْقِس نے حضورﷺ کے خط کو چوما اور حضرت حاطب کا بہت اکرام کیا اور خو ب اچھی طرح ان کی مہمان نوازی کی اور واپس بھیجتے ہوئے ان کا بڑا اکرام کیا، اور حضرت حاطب کے ساتھ ایک جوڑا کپڑا اور زین سمیت ایک خچر اور دو باندیاں ہدیہ میں حضورﷺ کی خدمت میں بھیجیں۔ ان باندیوں میں سے ایک (ماریہ قبطیہؓ ہیں جو) حضرت ابراہیم ؓکی والدہ تھیں، اور دوسری باندی حضورﷺ نے حضرت محمد بن قیس عبدیؓکو دے دی تھی ۔ 1 حضرت حاطب بن ابی بلتعہؓ فرماتے ہیں کہ مجھے حضورﷺ نے شاہ ِاِسکندر یہ مُقَوْقِس کے پاس بھیجا۔ میں حضورﷺ کا خط لے کر اُن کے پاس گیا، اس نے مجھے اپنے محل میں ٹھہرایا۔ اس نے اپنے تمام بڑے پادریوں کو جمع کیا اور مجھے بلا کر کہا: میں تم سے کچھ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں، تو تم میری باتیں اچھی طرح سمجھ لو۔ حضرت حاطب فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: ضرور پوچھو۔ تو اس نے کہا: مجھے اپنے حضرت کے بارے میں بتاؤ کہ کیا وہ نبی نہیں ہیں؟ میں نے کہا: ہیں، بلکہ وہ تو اللہ کے رسول بھی ہیں۔ اس نے کہا کہ جب وہ اللہ کے رسول تھے تو جب اُن کو اُن کی قوم نے ان کے شہر (مکہ) سے نکالا تو انھوں نے اپنی قوم کے لیے بددعا کیوں نہیں کی؟ میں نے کہا: کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں (میںگواہی دیتا ہوں) ۔ تو میں نے کہا کہ جب اُن کو اُن کی قوم نے پکڑا اور و ہ اُن کو سولی دینا چاہتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمانِ دنیا کی طرف اٹھالیا، تو انھوں نے اپنی قوم کے ہلاک ہونے کی بد دعا کیوں نہیں کی؟ اس نے مجھ سے کہا کہ تم تو بڑے عقل مند اور سمجھ دار ہو اور عقل مند اور سمجھ دار انسان کے پاس سے آئے ہو ۔اور یہ چند ہدیے ہیں جو میں تمہارے ساتھ حضرت محمدﷺ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں، اور تمہارے ساتھ چند محافظ بھی بھیجوں گا جو تمہیں تمہارے محفوظ علاقے تک بحفاظت پہنچا کر واپس آئیں گے۔ چناں چہ اس نے حضورﷺ کی خدمت میں تین باندیاں بھیجیں جن میں سے ایک حضورﷺ کے صاحب زادے حضرت ابراہیمؓ کی والدہ تھیں، دوسری باندی حضورﷺ نے حضرت حسان بن ثابتؓ کو دے دی تھی۔ اور مُقَوْقِس نے اپنے علاقہ کے نایاب اور خاص قسم کے تحفے بھی حضورﷺ کی خدمت میں بھیجے۔ 2