حیاۃ الصحابہ اردو جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
لڑنے کا حضور ﷺ نے تمہیں حکم دیا تھا وہاں جاکر اہلِ مُوتہ سے لڑو۔ تم جنھیں یہاں چھوڑ کر جا رہے ہو اللہ اُن کے لیے کافی ہیں، لیکن اگر تم مناسب سمجھو تو حضرت عمر کو یہا ںرہنے کی اِجازت دے دو۔ میں ان سے مشورہ لیتا رہوں گا اور مدد لیتا رہوں گا، کیوںکہ ان کی رائے بڑی عمدہ ہوتی ہے اور وہ اِسلام کے بڑے خیر خواہ ہیں۔ چناںچہ حضرت اُسامہ نے اِجازت دے دی۔ اور اکثر عرب اور اکثر اہلِ مشرق اور قبیلہ غَطَفان والے اور قبیلہ بنو اَسد والے اور اکثر قبیلہ اَشجع والے اپنے دین کو چھوڑ گئے، البتہ قبیلہ بنوطی اِسلام کو تھامے رہے۔ اور اکثر صحابہ نے حضرت ابو بکر کو کہا: حضرت اُسامہ اور اُن کے لشکر کو روک لو۔ قبیلہ غَطَفان اور باقی عرب کے جو لوگ مرتد ہوگئے ہیں ان کو ان کے فتنہ کو ختم کرنے کے لیے بھیج دو۔ حضرت ابوبکرنے حضرت اُسامہ اور ان کے لشکر کو روکنے سے اِنکار کردیا اور صحابہ سے کہا: تم جانتے ہو کہ حضور ﷺ کے زمانے سے یہ دستور چلا آرہا ہے کہ جن اُمور میں نہ تو حضور ﷺ کی سنت ہمیں معلوم ہو اور نہ ان کے بارے میں قرآن میں کوئی صاف حکم آیا ہو، تو ان اُمور کے بارے میں ہم لوگ مشورہ کیا کرتے تھے۔ تم لوگوں نے اپنا مشورہ دے دیا، اب میں تمہیں اپنا مشورہ دیتا ہوں۔ جو تمہیں زیادہ بہتر نظر آئے اسے تم لوگ اختیا ر کر لو، کیو ںکہ اللہ تعالیٰ تمہیں ہر گز گمراہی پر اِکٹھا نہیں ہونے دیں گے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! میرے خیال میں سب سے بہتر صورت یہ ہے کہ حضور ﷺ کو جو آدمی زکوٰۃ میں جانوروں کے ساتھ رسی دیا کر تا تھا اب وہ (جانور تو دے لیکن) رسی نہ دے تو بھی اس کے ساتھ جہاد کیا جائے۔ تمام مسلمانوں نے حضرت ابوبکر کی رائے کو قبول کر لیا اور سب نے دیکھ لیا کہ حضرت ابو بکر کی رائے اُن کی رائے سے بہتر ہے ۔ چناںچہ حضرت ابو بکر نے حضرت اُسامہ بن زید کو وہاں بھیجا جہا ں جانے کا حضور ﷺ نے حکم دیا تھا۔ اس غزوے کے بارے میں حضرت ابو بکر نے بالکل صحیح فیصلہ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت اُسامہ اور اُن کے لشکر کو خوب مالِ غنیمت دیا اور انھیں صحیح سالم اس غزوہ سے واپس فرمایا۔ جب حضرت اُسامہ روانہ ہوئے تو حضرت ابوبکر ؓ (مر تدین کے مقابلہ کے لیے) مہاجرین اور اَنصار کی ایک جماعت کو لے کر چلے۔ سارے دیہاتی عرب اپنے بال بچوں کو لے کر بھاگ گئے۔ جب مسلمانوں کو پتہ چلا کہ دیہاتی عرب اپنے بال بچوں کو لے کر بھاگ گئے تو انھوں نے حضرت ابوبکر سے بات کی اور کہا کہ اب آپ مدینہ بچوں اور عورتیں کے پاس واپس چلیں اور اپنے ساتھیوں میں سے ایک آدمی کو لشکر کا امیر بنا دیں اور اپنی ذمہ داری اس کے سپرد کر دیں۔ مسلمان حضرت ابو بکر کو کہتے رہے یہاں تک کہ حضرت ابوبکر مدینہ واپسی کے لیے تیار ہو گئے اور لشکر کا حضرت خالد بن ولید ؓ کو امیر بنا دیا اور ان سے فرمایا کہ عرب کے لوگ جب مسلمان ہو جائیں اور زکوٰۃ