حیاۃ الصحابہ اردو جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
پھر حضرت عمر نے کہا: مجھے اَنصار نے کہا تھا کہ میں آپ کو اُن کا یہ پیغام پہنچا دوں کہ وہ یہ چا ہتے ہیں کہ آپ اُن کا امیر ایسے آدمی کو بنائیں جو عمر میں حضرت اُسامہ سے بڑا ہو۔ حضرت ابو بکر بیٹھے ہوئے تھے، یہ سن کر ایک دم جھپٹے اور حضرت عمر کی ڈاڑھی پکڑ کر کہا: اے ابن الخطّاب! تیری ماں تجھے گم کرے (یعنی تم مر جائو )! حضور ﷺ نے تو ان کو امیر بنایا ہے اور تم مجھے کہہ رہے ہو کہ میں ان کو اِمارت سے ہٹا دوں۔ حضرت عمر وہاں سے نکل کر لوگوں کے پاس آئے۔ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ آپ کیا کر آئے؟ حضرت عمر نے کہا: چلو، اپنا سفر شروع کرو۔ تمہاری مائیں تمہیں گم کریں! آج تو مجھے تمہاری وجہ سے خلیفۂ رسول اللہ سے بہت کچھ برداشت کرنا پڑا۔ پھر حضرت ابو بکر خود ان لوگوں کے پاس آئے اور ان لوگوں کو خوب ہمت دلائی۔ اور ان کو اس طرح رخصت کیا کہ حضرت ابو بکر خود پیدل چل رہے تھے اور حضرت اُسامہ سوار تھے۔ اور حضرت عبدالر حمٰن بن عوف ؓ حضرت ابوبکر کی سواری کی لگام پکڑ کر چل رہے تھے۔ حضرت اُسامہ نے کہا: اے خلیفۂ رسول اللہ! یا تو آپ بھی سوار ہو جائیں یا پھر میں بھی نیچے اُتر کر پیدل چلتا ہوں۔ حضرت ابوبکر نے کہا: اللہ کی قسم! نہ تم اُترو گے، اور اللہ کی قسم! نہ میں سوار ہوں گا۔ اس میں کیا حرج ہے کہ میں تھوڑی دیر اپنے پائوں اللہ کے راستہ میں غبار آلود کر لوں، کیوںکہ غازی جو قدم بھی اُٹھا تا ہے اس کے لیے ہر قدم پر سات سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے سات سو درجے بلند کیے جاتے ہیں اور اس کے سات سو گناہ مٹائے جاتے ہیں۔ جب حضرت ابوبکر ان کو رخصت کر کے واپس آنے لگے تو انھوں نے حضرت اُسامہ سے کہا: اگر آپ منا سب سمجھو تو حضرت عمر کو میری مدد کے لیے یہاں چھوڑ جائو۔ چناںچہ حضرت اُسامہ نے حضرت عمر کو مدینہ حضرت ابوبکر کے پاس رہ جانے کی اجا زت دے دی ۔1 حضرت عروہ فرماتے ہیں: جب صحابہ (حضرت ابوبکر ؓ کی) بیعت سے فارغ ہوگئے اور سب پوری طرح مطمئن ہو گئے، تو حضرت ابو بکر نے حضرت اُسامہ کو فرمایا: تمہیں حضور ﷺ نے جہاں جانے کا حکم دیا تھا تم وہاں چلے جائو۔ کچھ مہا جرین اور اَنصار نے حضرت ابوبکر سے گفتگو کی اور کہا: آپ حضرت اُسامہ اور اُن کے لشکر کو روک لیں، کیوںکہ ہمیں ڈر ہے کہ حضور ﷺ کی وفات کا سن کر تمام عرب ہم پر ٹوٹ پڑیں گے۔ حضرت ابو بکر تمام صحابہ میں معاملات کے اعتبار سے سب سے زیادہ سمجھ دار اور مضبوط تھے۔انھوں نے کہا: کیا میں اس لشکر کو روک لوں جسے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا؟ اگر میں ایسا کروں تو یہ میری بہت بڑی جسارت ہوگی۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! سارے عرب مجھ پر ٹوٹ پڑیں یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں اس لشکر کو جانے سے روک دوں جسے حضور ﷺ نے روانہ فرمایا تھا۔ اے اُسامہ! تم اپنے لشکر کو لے کر وہاں جائو جہاں جانے کا تمہیں حکم ہوا تھا، اور فلسطین کے جس علا قہ میں جا کر