حیاۃ الصحابہ اردو جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
دیر حضرت اُسامہ کے ساتھ چلے پھر (مسافر کو رخصت کرنے کی دعا پڑھی): أَسْتَوْدِعُ اللّٰہَ دِیْنَکَ وَأَمَانَتَکَ وَخَوَاتِیْمَ أَعْمَالِکَ۔ اور فرمایا: (اس سفر میں جانے کا ) تمہیں حضور ﷺ نے حکم دیا تھا، تم حضور ﷺ کے اِرشاد کی وجہ سے جائو۔ نہ میں نے تم کو اس کا حکم دیا ہے اور نہ میں تمہیں اس سے روک سکتا ہوں۔ حضور ﷺ جس کام کا حکم دے گئے تھے میں تو وہ کام پورا کروا رہا ہوں۔ پھر حضرت اُسامہ تیزی سے روانہ ہوئے اور اُن کا ایسے علاقوں سے گزر ہوا جو پُر سکون تھے ا وروہاں کے لوگ مرتد نہیں ہوئے تھے جیسے قُضَاعہ کے جُہَیْنہ وغیرہ قبیلے۔ جب حضرت اُسامہ وادیٔ قُریٰ پہنچے تو انھوں نے بنو عُذرہ کے حُرَیث نامی آدمی کو اپنا جاسوس بنا کر آگے بھیجا، جو اپنی سواری پر سوار ہوکر حضرت اُسامہ سے پہلے روانہ ہو ا اور چلتے چلتے (مطلوبہ شہر) اُبنیٰ تک پہنچ گیا۔ اس نے وہاں کے حالات کو غور سے دیکھا اور (لشکر کے لیے) مناسب راستہ تلاش کیا۔ پھر وہ تیزی سے واپس لوٹا اور اُبنیٰ سے دو راتوں کی مسافت پہلے وہ حضرت اُسامہ کے پاس پہنچ گیا اور اس نے انھیں بتایا کہ لوگ بالکل غافل ہیں (انھیں مسلمانوں کے لشکر کے آنے کی کوئی خبر نہیں ہے) اور ان کا لشکر بھی جمع نہیں ہوا۔ اور انھیں مشورہ دیا کہ اب (لشکر کو لے کر) تیزی سے چلیں تاکہ ان کے لشکروں کے جمع ہونے سے پہلے ہی ان پر اچانک حملہ کیا جاسکے۔ 1 حضرت حسن بن ابی الحسن فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے اپنے انتقال سے پہلے اہلِ مدینہ اور اس کے اَطراف سے ایک لشکر تیار فرمایا جن میں حضرت عمر بن خطّاب ؓ بھی تھے، اور حضرت اُسامہ بن زید ؓ کو اس لشکر کا امیر بنایا۔ ان حضرات نے ابھی خندق بھی پار نہیں کی تھی کہ حضور ﷺ کا انتقال ہوگیا۔ حضرت اُسامہ لوگوں کو لے کر ٹھہر گئے اور حضرت عمر سے کہا کہ آپ رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ کے پاس واپس جائیں اور ان سے (ہمارے لیے واپس آنے کی) اِجازت لیں تاکہ وہ مجھے اِجازت دیں تو ہم سب لوگ مدینہ واپس چلے جائیں، کیوں کہ میرے ساتھ بڑے بڑے جلیل القدر صحابۂ کرام لشکر میں ہیں۔ اور مجھے خطرہ ہے کہ کہیں مشرکین خلیفۂ رسول اللہ پر اور حضور ﷺ کے گھر والوںاور مسلمانوں کے گھروالوں پر اچانک حملہ نہ کر دیں۔ اور اَنصار نے کہا: اگر حضرت ابوبکر ہمارے جانے کا ہی فیصلہ کریں تو اُن کو ہماری طرف سے یہ پیغام دے کر مطالبہ کریں کہ وہ ہمارا امیر ایسے آدمی کو بنائیں جو عمر میں حضرت اُسامہ سے بڑا ہو۔ چناںچہ حضرت عمر حضرت اُسامہ کا یہ پیغام لے کر گئے اور حضرت ابوبکر کو جاکر حضرت اُسامہ کی ساری بات بتا دی۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ اگر کتے اور بھیڑیے مجھے اُچک لیں (مجھے مدینہ سے اُٹھا کر لے جائیں یا مجھے پھاڑ ڈالیں) تو بھی میں حضور ﷺ کے فیصلہ کو واپس نہیں لے سکتا ہوں ۔