حیاۃ الصحابہ اردو جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اِطلاع ملنے پر) حضرت ابو بکر اورحضرت عمر ؓ تیزی سے چلے۔ وہاں پہنچ کر حضرت ابو بکر نے گفتگو فرمائی، اَنصار کے بارے میں قرآن میں جو کچھ نازل ہوا تھا اور حضور ﷺ نے ان کے بارے میں جو کچھ فرمایا تھا وہ سب حضرت ابوبکر نے ذکر کردیا، اور یہ بھی فرمایا کہ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور اَنصار دوسری وادی میں چلیں تومیں اَنصار کی وادی میں چلوں گا۔ اور اے سعد! تمہیں بھی یہ معلوم ہے کہ ایک دفعہ تم بیٹھے ہوئے تھے اور تمہاری موجودگی میں حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ قریش اس امرِ (خلافت) کے والی ہوں گے۔ نیک لوگ قریش کے نیک آدمیوں کے تابع ہوں گے، اور برے لوگ قریش کے برے آدمیوں کے تابع ہوں گے۔ حضرت سعد نے حضرت ابو بکر سے کہا: آپ نے سچ فرمایا، لہٰذا ہم لوگ وزیر (یعنی آپ لوگوں کے مددگار) ہوں گے اور آپ حضرات امیر۔ 1 حضرت ابو سعید خُدرِی ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ کا انتقال ہوگیا تو (سقیفہ بنو ساعدہ میں اَنصار جمع ہوئے اور) اَنصار کے لوگ کھڑے ہوکر اپنی اپنی رائے ظاہر کرنے لگے۔ چناںچہ ان میں سے ایک آدمی نے کہا: اے مہاجرین کی جماعت! جب حضور ﷺ تم میں سے کسی کو امیر بناتے تو اس کے ساتھ ہمارا ایک آدمی ضرور لگا دیتے، اس لیے ہمارا خیال یہ ہے کہ اس امرِ خلافت کے والی دو آدمی ہوں ایک آدمی آپ لوگوں میں سے ہو اور دوسرا ہم میں سے ہو (یعنی دو آدمی خلیفہ ہونے چاہییں ایک مہاجری اور دوسرا انصاری)۔ اور انصار میں سے جو بھی رائے دینے کے لیے کھڑا ہوا اس نے یہی کہا۔ پھر حضرت زید بن ثابت ؓ نے کھڑے ہوکر کہا کہ رسول اللہ ﷺ مہاجرین میں سے تھے لہٰذا اب اِمام بھی مہاجرین میں سے ہونا چاہیے، اور ہم لوگ اس کے معاون و مددگار ہوں گے جیسے کہ ہم لوگ حضور ﷺ کے معاون اور مددگار تھے۔ اس پر حضرت ابوبکر نے کھڑے ہوکر کہا: اے جماعتِ اَنصار! اللہ تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے اور تمہارے اس بولنے والے کو ثابت قدم رکھے۔ اللہ کی قسم! اگر تم اس کے علاوہ کچھ اور کرتے تو ہماری تم سے صلح نہ ہوتی۔ پھر حضرت زید بن ثابت نے حضرت ابو بکر کا ہاتھ پکڑ کر کہا: یہی تمہارے خلیفہ ہیں ان سے بیعت ہوجاؤ ۔2 حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کا انتقال ہوا تو حضراتِ اَنصار ؓ حضرت سعد بن عبادہ ؓ کے پاس جمع ہوئے۔ پھر حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت ابوعبیدہ بن جرّاح ؓ بھی ان حضرات کے پاس آگئے۔ چناںچہ حضرت حُباب بن المنذر ؓ جو کہ بدری صحابی ہیں انھوں نے کھڑے ہوکر کہا کہ ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر تم میں سے۔ اللہ کی قسم! اے جماعتِ (مہاجرین!) ہم اس اِمارت میں تم سے حسد نہیں رکھتے ہیں، لیکن ہمیں اس بات کا خطرہ ہے کہ کہیں یہ اِمارت ان لوگوں کے ہاتھ میں نہ آجائے جن کے باپ اور بھائیوں کو ہم نے (مختلف غزوات میں) قتل کیا ہے (اور وہ