حیاۃ الصحابہ اردو جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
چناںچہ ان حضرات نے اسے قتل کرنے کی حضور ﷺ سے اجازت مانگی۔ حضور ﷺ نے انھیں اجازت دے دی تو قبیلہ خزرج میں سے بنو سَلِمہ کے پانچ آدمی حضرت عبداللہ بن عتیک، حضرت مسعود بن سنان، حضرت عبداللہ بن اُنَیس، حضرت ابو قتادہ حارث بن رِبعی اور حضرت خُزاعی بن اَسود ؓ (خیبر جانے کے لیے) تیار ہوئے۔ حضور ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عتیک کو ان کا امیر بنایا اور انھیں کسی بچے یا عورت کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ چناںچہ وہ حضرات (مدینہ سے) روانہ ہوئے اور خیبر پہنچ کر وہ حضرات رات کے وقت ابنِ ابی الحُقَیْق کے گھر گئے اور گھر کے ہر کمرے کو باہر سے بند کر دیا تاکہ کسی کمرے میں سے اندر والے باہر نہ آسکیں۔ ابنِ ابی الحُقَیْق اپنے بالاخانہ میں تھا جہاں تک جانے کے لیے کھجور سے بنی ہوئی ایک سیڑھی لگی ہوئی تھی۔ چناںچہ یہ حضرات اس سیڑھی سے چڑھ کر اس کے دروازے پر پہنچ گئے اور اندر آنے کی اجازت چاہی۔تو اس کی بیوی نکل کر باہر آئی اور کہنے لگی: تم لوگ کون ہو ؟ ان حضرات نے کہا: ہم عرب کے لوگ ہیں اورغلہ کی تلاش میں آئے ہیں۔ اس نے کہا: ابو رافع یہ ہے جس سے تم ملنا چاہتے ہو، اندر آجاؤ۔ فرماتے ہیں کہ جب ہم اندر چلے گئے تو ہم نے اندر سے کمرہ بند کر لیا تاکہ اس تک پہنچنے میں کوئی حائل ہی نہ ہوسکے۔ (یہ دیکھ کر) اس کی بیوی شور مچا کر ہماری خبر کرنے لگی۔ ابو رافع اپنے بستر پر تھا۔ ہم تلواریں لے کر اس پر تیزی سے جھپٹے۔ اللہ کی قسم! رات کے اندھیرے میں ہمیں اس کا پتہ صرف اس کی سفیدی سے ہی چلا۔ ایسا سفید تھا جیسے کہ مصری سفید چادر پڑی ہو۔ جب اس کی بیوی ہمارے بارے میں شور مچا کر بتانے لگی تو ہمارے ایک ساتھی نے (قتل کرنے کے لیے ) اس پر تلواراُٹھالی، لیکن پھر اسے یاد آیا کہ حضور ﷺ نے (بچے اور عورت کو قتل کرنے سے) منع فرمایا تھا اس وجہ سے اس نے تلوار روک لی۔ اگر حضور ﷺ نے ہمیں منع نہ فرمایا ہوتا تو ہم رات ہی کو اس سے نمٹ جاتے۔ جب ہم لوگوں نے تلواروں سے اس پر حملہ کیا (لیکن اس کا کام تمام نہ ہوا) تو حضرت عبداللہ بن اُنَیس نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھ کر تلوار پر اپنا سارا وزن ڈال دیا جس سے تلوار پار ہوگئی، ابو رافع بس بس ہی کہتا رہا۔ اس کے بعد ہم لوگ وہاں سے باہر آئے۔ حضرت عبداللہ بن عتیک کی نگاہ کمزور تھی وہ سیڑھی سے گر گئے جس سے اُن کے ہاتھ میں بری طرح موچ آگئی۔ ہم انھیں وہاں سے اُٹھا کر یہود کے چشموں سے بہنے والی ایک نہر کے پاس لائے اور اس میں داخل ہوگئے۔اُدھر وہ لوگ آگ جلا کر ہر طرف ہماری تلاش میں دوڑ پڑے، آخر نااُمید ہو کر اس کے پاس واپس گئے اور اس کو سب نے گھیر لیا اور ان سب کے بیچ میں اس کی جان نکل رہی تھی۔ ہم نے آپس میں کہا: ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ اللہ کا دشمن مرگیا؟ ہم میں سے ایک ساتھی نے کہا کہ میں جا کر دیکھ آتا ہوں۔ چناںچہ وہ گئے اور عام لوگوں میں شامل ہوگئے۔ وہ فرماتے ہیں کہ وہاں جا کر میں