حیاۃ الصحابہ اردو جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کے ہاتھ لگ گئے تو تمہاری گردن ضرور اڑادی جائے گی۔ تم میرے ساتھ اس خچر پر سوار ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں حضورﷺ کی خدمت میں لے جا کر تمہیں ان سے امن دلوا دوں۔ چناں چہ اس کے دونوں ساتھی تو واپس چلے گئے اور وہ میرے پیچھے سوار ہوگئے۔ میں ابو سفیان کو تیزی سے لے کر چلا۔ جب بھی میں مسلمانوں کی کسی آگ کے پاس سے گزرتا وہ پوچھتے:یہ کون ہے؟ لیکن حضورﷺ کے خچر کو دیکھ کر کہتے یہ تو حضورﷺ کے چچا حضورﷺ کے خچر پر جارہے ہیں، یہاں تک کہ میں حضرت عمر بن الخطّابؓ کی آگ کے پاس سے گزرنے لگا، تو حضرت عمر نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ اور کھڑے ہوکر میرے پاس آگئے۔ جب انھوںنے میرے پیچھے خچر پر سوار ابو سفیان کو دیکھا تو کہنے لگے: یہ تو اللہ کا دشمن ابو سفیان ہے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے تم پر قابو دے دیا ہے اور اس وقت ہمارا تمہارا کوئی معاہدہ بھی نہیں ہے۔ اور وہ حضورﷺکی طرف دوڑ پڑے، اور میں نے بھی خچر کو ایڑ لگائی اور میں اُن سے آگے نکل گیا اور ظاہر ہے کہ سوار پیدل آدمی سے آگے نکل جاتا ہے۔ آگے جاکرمیں خچر سے کود پڑا اور حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا۔ اتنے میں حضرت عمربھی آگئے اور انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ ابو سفیان ہے جس پر اللہ نے قابو دے دیا ہے اور اس کا ہمارا کوئی معاہدہ بھی نہیں ہے۔ آپ مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اڑا دوں۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! میں ان کو پناہ دے چکا ہوں۔ پھر میںنے حضور ﷺ کے پاس بیٹھ کر عرض کیا: اللہ کی قسم ! آج رات تو بس میں اکیلے ہی ان سے بات چیت کروں گا۔ جب حضرت عمر نے اُن کے بارے میں زیادہ زور لگایا تو میں نے کہا: اے عمر! بس کرو۔ اگر یہ بنو عدی بن کعب خاندان میں سے ہوتے تو تم اتنی باتیں نہ کرتے، لیکن تمہیں پتہ ہے یہ بنو عبدِ مناف میں سے ہے (اس لیے اتنا زور لگارہے ہو)۔ انھوں نے کہا: اے عباس! ٹھہرو، تمہارے اِسلام لانے سے مجھے جتنی خوشی ہوئی اگر میرا باپ اِسلام لاتا تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔ اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ تمہارا اِسلام لانا حضورﷺ کے لیے میرے باپ خطّاب کے اِسلام لانے سے زیادہ باعث ِخوشی تھا۔ حضورﷺ نے فرمایا:اے عباس ! اس وقت تو تم ان کو اپنی قیام گاہ میں لے جاؤ، صبح میرے پاس لے آنا۔ چناں چہ ان کو میںاپنی قیام گاہ پر لے آیا، انھوں نے میرے پاس رات گزاری ۔ صبح میں ان کو حضورﷺ کی خدمت میں لے گیا، ان کو دیکھ کر حضورﷺ نے فرمایا: اے ابو سفیان! تیرا بھلا ہو، کیا تمہارے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ انھوں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں!آپ تو بہت بزرگ اور بہت حِلم والے اور بہت زیادہ جوڑ لینے والے ہیں۔ اب تو مجھے یقین ہو گیا کہ کہ اگر اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہوتا تو میرے کسی کام تو آتا۔ آپ نے فرمایا: اے ابو سفیان! تیرا بھلا ہو، کیا