احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
زمانے میں اور آپ کے بعد دوسرا نبی آسکتا ہے۔ یہ قرآن کی صریح تکذیب ہے۔ کیونکہ قرآن میں آپ کو خاتم النبیین کہاگیا ہے۔ نیز حدیث میں حضورﷺ نے فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد نبی نہیں آسکتا۔ اس کے علاوہ اجماع امت ہے کہ ان نصوص کو اپنے اپنے ظاہر پر رکھا جائے گا۔ (مرزامحمود کا خود ساختہ معنی ختم نبوت کا اجماع قطعی کے خلاف اور زندقہ ہے)}
محدثین کی رائے
۱… قاضی عیاض شفا میں لکھتے ہیں۔ ’’وکذلک نکفر من ادعی نبوۃ احد مع نبینا صلعم (کمسیلمۃ والاسود) اوادعی نبوۃ احد بعدہ (فانہ خاتم النبیین بنص القراٰن والحدیث فہذا تکذیب ﷲ ورسولہ) اومن ادعی النبوۃ لنفسہ (کالمختار بن ابی عبید) وکل ذالک من ادعی انہ یوحی الیہ وان لم یدع النبوۃ فھو لاء کلہم کفار مکذبون للنبیﷺ لا نہ ﷺ اخبر انہ خاتم النبیین وانہ لا نبی بعدی۰ واجمعت الامۃ علی ان ہذا الکلام علی ظاہرہ دون تاویل (شرح شفا از خفاجی بالتقاط ج۴ ص۵۴۳، شرح قاری ج۲ ص۵۱۸)‘‘ {ہم ہر اس شخص کو کافر قرار دیتے ہیں جس نے حضورﷺ کے عہد میں کسی دوسرے متبنی کو مانا یا آپؐ کے بعد کسی دوسرے کو نبی قرار دیا۔ کیونکہ آپؐ بنص قرآن اور حدیث ختم الانبیاء ہیں۔ پس ایسے عقیدے سے خدا ورسول کی تکذیب لازم آتی ہے۔ علیٰ ہذا القیاس مدعی نبوت بھی کافر ہے۔ اسی طرح وہ بھی کافر ہے جو گودعویٰ نبوت نہ کرے۔ مگر وحی والہام کا مدعی ہو۔ (جیسے لاہوری مرزائیوں کا مرزا) یہ سب کافر ہیں۔ حضورﷺ کے مکذب ہیں۔ کیونکہ حضورﷺ اپنے آپ کو خاتم الانبیاء فرماتے ہیں۔ امۃ مسلمہ کا اجماعی عقیدہ ہے کہ ان نصوص کو اپنے ظاہر پر رکھا جائے۔ (کسی محمودی تاویل کی گنجائش نہیں)}
۲… حافظ ابو محمد بن حزم ظاہری کتاب الفصل میں لکھتے ہیں۔ ’’من قال ان بعد محمدﷺ نبیاً بغیر عیسیٰ بن مریم فانہ لا یختلف اثنان فی کفرہ ہذا مع سماعہم قول اﷲ ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین وقولہﷺ لا نبی بعدی فکیف یستجیز لمسلم ان یثبت بعدہ علیہ السلام نبیا فی الارض حاشا ما استثناہ رسول اﷲﷺ فی الاثار المسندۃ الثابتۃ فی نزول عیسیٰ