احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
است۔ کس قدرت اور امنکر نیست۔ اماچوں خدا ازچیزے خبر دھدکہ چنیں خواہد بودن یا نخواہد بودن خبر چناں نباشد کہ خدا زاں خبردہد، وخدا خبرد ادکہ بعد ازدے نبی دیگر نباشد دہرآنکس کہ گوید بعد ازدے نبی دیگر بودیا ہست یا خواہد بود کافراست نیز آنکس کہ گوید امکان داردکہ باشد، کافراست (نسخہ خطیہ باب دوم فصل سیم)‘‘ {صحیح روایات سے ثابت ہے کہ حضورﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے اور آپ کے بعد کوئی دوسرا نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ (اس کے بعد علامہ مذکور نے ختم نبوت کی روایات لائی ہیں۔ تاآنکہ کہا ہے کہ) بفضل خدا مسئلہ ختم نبوت مسلمانوں میں اتنا بدیہی ہے کہ اس کی تشریح اور بیان کی ضرورت نہیں۔ لیکن جوذکر ہوا وہ صرف اس اندیشہ کے پیش نظر کہ مبادا کوئی زندیق کسی سادہ لوح مسلمان کو مذکورۂ ذیل مغالطہ دے اور زندیق عام طور پر کھلم کھلا تو کچھ کہہ نہیں سکتے۔ البتہ مغالطوں کے ذریعہ کام نکالتے ہیں۔ مغالطہ یہ ہے کہ بحکم ’’ان اﷲ علی کل شیٔ قدیر‘‘ خدا کو ہرچیز پر قدرت ہے۔ لہٰذا نیا نبی بھی قدرت الٰہی میں داخل ہے۔ علامہ فرماتے ہیں۔ قدرت الٰہی (جس کو امکان ذاتی بھی کہا جاتا ہے) کا کوئی منکر نہیں۔ (لہٰذا اس سے زیادہ سے زیادہ امکان ذاتی ثابت ہوا) لیکن جب خداتعالیٰ کسی چیز کی نسبت اطلاع دے کہ یوں ہوگی یا یوں نہ ہوگی تو وہ چیز اسی طرح ہوگی جس طرح خدا تعالیٰ نے اطلاع دی ہے اور خداتعالیٰ نے قرآن میں اطلاع دی ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد دوسرا نبی نہیں۔ بنابریں جو شخص یہ کہے کہ آپ کے بعد کوئی اور نبی بالفعل ہوچکا یا بالفعل ہے۔ یا بالفعل ہوگا۔ (ہر سہ صورتیں مطلقہ عامہ کی ہیں) وہ کافر ہے۔ نیز وہ شخص بھی کافر ہے جو یہ کہے کہ آپ کے بعد دوسرا نبی ماضی حال استقبال میں گوبالفعل نہیں۔ لیکن اس کے آنے کا امکان شرعی ہے۔ کیونکہ امکان شرعی ’’خاتم النبیین‘‘ والی آیت کا مبطل ہے۔ (عدم امکان شرعی امتناع بالغیر کا ایک فرد ہے)}
۱۱… عارف باﷲ علامہ شیخ عبدالغنی نابلسی شرح فرائد میں لکھتے ہیں۔ ’’وفساد مذہبہم غنی عن البیان کیف وھو یؤدی الیٰ تجویز نبی مع نبیناﷺ اوبعدہ وذلک یستلزم تکذیب القراٰن اذ قدنص علی انہ خاتم النبیین واٰخر المرسلین وفی السنۃ انا العاقب لا نبی بعدی واجمعت الامۃ علی البقاء ہذا الکلام علیٰ ظاہرہ وہذہ احدی المسائل التی کفرنا بہا الفلاسفہ (اکفار ص۴۴)‘‘ {یہ مذہب (فلاسفہ) بدیہی البطلان ہے۔ کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ حضورﷺ کے