احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
۶… دہرت رام نے بیان کیا کہ ایک دفعہ ڈاکٹر عبداﷲ اور اسماعیل دونوں احسان علی کے خلاف باتیں کر رہے تھے۔ محمد یعقوب کمپونڈر نور ہسپتال نے ایک خط اسماعیل کو لکھا تھا۔ جس میں بیان کیاگیا تھا کہ احسان علی کا اخلاق برا ہے اور اس نے ایک عورت کے ساتھ براسلوک کیا ہے۔ ایک ملزم جو اپنے بچاؤ کی خاطر دوسرے پر الزام عائد کرے وہ سزا سے نہیں بچ سکتا۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ ملزم کا خیال ان الزامات کے عائد کرنے سے اپنے آپ کو بچانے کا تھا اور اس کا مقصد ضرور یہ تھا کہ احسان علی ایک ناقابل اعتبار شخص ہے اور اس کے اخلاق ٹھیک نہیں ہیں۔ بہرحال یہ الزام ثابت کرتے ہیں کہ اس کا اخلاق ٹھیک نہیں ہے۔ ایک اور بیان سے ظاہر ہے کہ احسان علی کا ایک نام سان ہے۔ جس کے معنی عورت کے پیچھے بھاگنے والے کے ہیں۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ ملزم اسماعیل چونکہ احمدیہ جماعت سے خارج کردیا گیا ہے اور مرزائی اس کا ساتھ نہیں دیتے۔ اس لئے کئی احراری لوگ جو قادیان میں ہیں۔ اس کا ساتھ نہیں دیتے۔ بہرحال ملزم سے اس بات کی توقع نہیں کی جاتی کہ وہ اس حد تک ثبوت بہم پہنچائے۔ جہاں تک کہ احسان علی کو اس کی سزا مل سکے۔ ایک اور الزام چونکہ احسان علی پر عائد کیاگیا تھا۔ وہ بہرحال ثابت نہیں ہوتا۔ الزام یہ تھا کہ احسان علی جھوٹا اور مکار ہے۔ ان باتوں کا صحیح ثبوت نہیں ملتا۔ اس لئے میں سمجھ سکتا ہوں کہ ملزم اپنے ثبوت کے لئے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں پیش کرسکا۔ ہوسکتا ہے کہ اسماعیل نے کسی خاص نقصان پہنچانے کی غرض سے یہ الزامات عائد نہ کئے ہوں۔ لیکن ملزم اس بات کا انکار نہیں کر سکتا کہ احسان علی کی عزت اور شہرت کو اس سے نقصان پہنچا ہے۔ اس وجہ سے ملزم زیر دفعہ نمبر۵۰۰ مجرم ہے۔ میں ان تمام وجوہات کے پیش نظر پچاس روپے جرمانہ کرتا ہوں اور بصورت عدم ادائیگی تین ماہ قید بامشقت کی سزا دیتا ہوں۔ جرمانہ بصورت ادائیگی احسان علی کو بطور جرمانہ دیا جائے گا۔ ویشنو بھگوان ایڈیشنل مجسٹریٹ ۲۱؍ستمبر ۱۹۳۵ء نوٹ: محمد اسماعیل صاحب کی طرف سے ریفارم لیگ نے ۵۱روپے جرمانہ ادا کر دئیے تھے اور بعدازاں معلوم ہوا ہے کہ محمد اسماعیل اپیل میں بالکل بری ہوگئے۔ محمد اسماعیل اب معافی مانگ کر ریفارم لیگ سے علیحدہ ہوچکے ہیں۔ خان کابلی قادیان میں انقلاب عظیم ہر احمدی کو اس امر کا اقرار ہے کہ تقویٰ وطہارت پیدا کرنے اور اخلاق فاضلہ کا سبق دینے کے لئے احمدیت کا ظہور ہوا۔ مسیح موعود نے اپنی ساری زندگی جماعت میں نیکی وتقویٰ پیدا