احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
خلیفہ محمود صاحب کا اس الہام پر تبصرہ نادان ہے۔ ’’وہ شخص جس نے کہاکر مہائے تو مارا کرد گستاخ کیونکہ خدا کے کرم انسان کو گستاخ نہیں بنایا کرتے اور سرکش نہیں کردیا کرتے۔‘‘ (الفضل ص۱۲، مورخہ ۲۳؍جنوری ۱۹۲۰ئ) مرزاقادیانی کے مالیخولیا کا فیصلہ اور اس کی تائید ان تمام واقعات، اسباب، عوارضات اور علامات کو مدنظر رکھ کر ہر ذی شعور شخص اس بات کا فیصلہ کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جناب مرزاقادیانی مرض مالیخولیا کے مریض تھے۔ خصوصاً جب کہ خود مرزاقادیانی تو اس بات کا اقرار کریں اور ان کے حواریین اس کی تائید فرمائیں۔ تمام طبی کتابیں اس کا ثبوت دیں توکسی کی کیا مجال ہے کہ اس کے برخلاف کہہ سکے۔ حکیم الامتہ حضرت مولانا اشرف علی شاہ صاحب تھانوی مجدد ماتہ حاضرہ مدظلہ العالی نے بھی مرزاقادیانی کو مالیخولیا تسلیم کیا ہے۔ آپ مرزاقادیانی کے دعویٰ مہدویت ومسیحیت کارد فرماتے ہوئے اخیر میں فرماتے ہیں۔ ’’احقر کے نزدیک منشاء ان کے خیالات کا فساد قوت متخیلہ ہے جو اسباب خاص میں ہوگیا ہے۔ جس کا سبب گاہے طول خلوت بھی ہو جاتا ہے اور گاہے اس میں کچھ کشف بھی ہونے لگتا ہے۔ جیسا کہ شرح اسباب وغیرہ میں مذکور ہے۔‘‘ (الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح ص۳۱) مالیخولیا کے ثبوت کے بعد ایک احمدی ڈاکٹرکا فتویٰ ہے کہ مالیخولیا کا مریض نبی نہیں ہوسکتا۔ ڈاکٹر شاہ نواز خان صاحب احمدی اسسٹنٹ سرجن لکھتے ہیں کہ: ’’ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا، مالیخولیا، یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ وبن سے اکھیڑ دیتی ہے۔‘‘ (ریویو ص۶،۷، اگست ۱۹۲۶ئ) ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعان کا حکیم محمد علی امرتسری! ض ض ض ض ض ض ض ض