احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
مجھے یاد آگیا دود علیٰ عود
الف… جناب فاروق اعظمؓ کا دور خلافت ہے اور مسلمانوں کی شان کشور کشائی ومعدلت گستری کا آفتاب عالمتاب عین نصف النہار پر پہنچا ہوا ہے اور قریب ہے کہ اس کی کرنیں کفر زار ہند کو بھی منور کر دیں۔ اس وقت ۱۵ھ سرحد ہند یعنی بحرین وعمان کے نائب السلطنت حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفیؓ اپنے برادر حکم کو اسلامی فوج کا سپہ سالار بنا کر دربار خلافت سے صریح اجازت لئے بغیر بحری راستہ سے ہندوستان کی بحری طاقت اور دوسرے ضروری معاملات کی دیکھ بھال کے لئے روانہ کرتے ہیں۔ حکم یلغار کرتا ہوا ’’تھانہ‘‘ (قریب بمبئی) تک پہنچ جاتا ہے۔ پھر یہ ہر اوّل دستہ دیکھ بھال کے بعد جب بسلامت واپس آتا ہے تو نائب السلطنت نے اس تمام واقعہ کی روداد دربار خلافت میں ارسال کی۔ تاکہ خلیفہ حسن کارگذاری پر خوش ہوں اور شائد ہندوستان پر حملہ کی اجازت دیں۔ اس پر حضرت فاروق اعظمؓ نے لکھا: ’’یا اخاثقیف حملت دوداً علی عود ان رکب غرق وان نجابرق‘‘ {اوثقفی! تو نے ایک کیڑے کو تنکے پر سوار کر کے سمندر کی موجوں میں دھکیل دیا ہے۔ پس اگر وہ سوار رہا تو ڈوب مرے گا اور اگر بالفرض کہیں کنارے لگ کر بچ گیا تو ساحل پر مارے حیرت کے تلملاتا ہوا دم توڑ دے گا۔}
ب… یہی حالت بعینہ فرقہ مرزائی کی ہے۔ جو برطانیہ عظمیٰ کی ایمپریل مصالح کے پیش نظر روایتی پچاس الماریوں کے صدقے موجود ہوا۔ جس کا فرض علاوہ اور ’’خدمات جلیلہ‘‘ کے خود ان کے خود ساختہ پیمبر کے ارشاد کی تعمیل میں آنریری طور پر حکومت وقت کی جاسوسی کرنا بھی ہے۔ مرزاقادیانی کے ارشادات ملاحظہ ہوں۔ ’’قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو درپردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں… ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی… ایسے لوگوں کے نام معہ پتہ ونشان یہ ہیں۔ (اس کے بعد ان ناکردہ گناہ مسلمانوں کے ناموں کی فہرست ہے جن کے خلاف حکومت کے کان بھرے گئے)‘‘ (تبلیغ رسالت ج۵ ص۱۱، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۲۲۷،۲۲۸)
ج… خلافت راشدہ اور سلطنت عادلہ کے ماسوا کوئی حکومت بھی ہو۔ خواہ حکومت جابرہ ہو یا حکومت ضالہ، یا حکومت کافرہ، تاریخ امم وملوک شاہد ہے کہ اس کی بقاء واستحکام کا راز حزب الاختلاف کی نشود نما اور سرپرستی میں مضمر ہے۔ فرعون کی حکومت جابرہ کا نقشہ کھینچتے ہوئے قرآن حکیم نے فرمایا ہے: ’’ان فرعون علافی الارض وجعل اہلہا شیعاً