احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
بن مریم علیہ السلام فی اٰخر الزمان‘‘ (کتاب الفصل ج۳ ص۲۴۹، ج۴ ص۱۸۰)’’وقد قال فی روح المعانی وھو من محققی المتاخرین ان من لم یقل بنزول عیسیٰ علیہ السلام فقد اکفرہ العلماء لا نکارہ ماتواتر فی الشرع‘‘ (اکفار ص۸) {آنحضرتﷺ کے بعد جو شخص بھی (باستثنائے مسیح علیہ السلام) کسی نبی کے آنے کا اعتراف کرے اس کا کفر اس قدر متفق علیہ ہے کہ دو شخصوں کا اختلاف بھی منقول نہیں۔ کیونکہ خداتعالیٰ نے قرآن میں آپ کو خاتم النبیین کہا اور خود آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ پس کسی مدعی اسلام کے لئے کب یہ گنجائش رہتی ہے کہ وہ آپؐ کے بعد کسی نبی کے آنے کو جائز قرار دے۔ باستثناء مسیح علیہ السلام کے کیونکہ ان کو خود حضورﷺ نے احادیث صحیحہ میں مستثنیٰ فرمایا ہے۔}
صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ نزول مسیح علیہ السلام کے منکر کو علماء نے کافر قرار دیا ہے۔ کیونکہ یہ امر متواتر کا انکار ہے۔
فقہاء اور اصولیین کی رائے
۱… علامہ امام عبدالعزیز بخاری حنفی، تحقیق شرح حسافی اور کشف الاسرار (شرح اصول بزدوی ج۳ ص۲۳۸) میں فرماتے ہیں۔ ’’وان غلافی ھواہ حتی وجب اکفارہ لا یعتبر خلافہ ووفاقہ ایضاً لعدم دخولہ فی مسمیٰ الامۃ المشہود لہا بالعصمۃ وان صلی الیٰ القبلۃ واعتقد نفسہ مسلماً لان الامۃ لیست عبارۃ عن المصلین الیٰ القبلۃ بل عن المؤمنین وھو کافر وان کان لا یدری انہ کافر‘‘ {اگر کسی مبتدع کا غلوکفر کے درجہ تک پہنچ جائے تو اجماع امت کے مسئلہ میں اس کا اتفاق واختلاف نظر انداز کیا جائے گا۔ کیونکہ وہ اس امت میں داخل ہی نہیں۔ جس کے لئے آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ گمراہی پر اتفاق نہیں کرے گی۔ ہر چند وہ قبلہ رخ ہوکر نمایں پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان شمار کرتا ہو۔ یہ اس لئے کہ امت محمدیہ کے یہ معنی نہیں کہ کوئی قبلہ رخ ہوکر نماز پڑھ لے۔ بلکہ امت مؤمنین کا نام ہے اور یہ شخص مؤمن نہیں بلکہ کافر ہے۔}
تنبیہ
مذکورہ بالا حوالہ ہم نے خاص طور پر جناب نواب زادہ اﷲ نواز خان صاحب کے لئے حوالہ قلم کیا ہے تا کہ وہ اپنے غلط افتاء سے باز آئیں۔ اسلام کی تعریف جو انہوں نے کی ہے وہ کسی