احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
دوٹکڑے کرڈالے۔ انگلیوں سے چشمے جاری کئے۔ مردوں کو زندہ کیا۔ آفتاب کو غروب کے وقت دوبارہ لوٹایا۔ قرآن شریف کا زندہ معجزہ اب تک موجود ہے کہ آج تک کوئی ایک سو رت تو کجا ایک آیت بھی مقابلہ میں نہیں بناسکا۔
الف… ’’ان کنتم فی ریب مما نزلنا علیٰ عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ وادعوا شہداء کم من دون اﷲ ان کنتم صدقین (الم، البقرہ)‘‘ {اور وہ جو ہم نے اپنے بندے محمدﷺ پر قرآن اتار ہے اگر تم کو اس میں شک ہو اور سمجھتے ہو کہ یہ کتاب خدا کی نہیں بلکہ آدمی کی بنائی ہوئی ہے اور اپنے اس دعویٰ میں سچے ہو تو اس جیسی ایک سورۃ تم بھی بنالاؤ اور اﷲتعالیٰ کے سوا اپنی جماعتوں کو بھی بلالاؤ۔} (ترجمہ مولوی نذیر احمد دہلوی)
ب… ’’قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ہذا القراٰن لایاتون بمثلہ ولوکان بعضہم لبعض ظھیرا‘‘ {کہو اگر انسان اور جن جمع ہوکر اس قرآن کی مانند بنالاویں تو اس کی مثل ہرگز نہ بناسکیںگے۔ اگر ایک دوسرے کے مددگار کیوں نہ ہو جاویں۔}
اعجاز قادیانی
غلط الہامات شائع کرنا توہین رسالت کرنا اور گالیاں دینا کوئی قادیانی یا پنجابی غیر مسلم مسلمان نہ ہوا۔ محمدی بیگم کا آسمانی نکاح ٹوٹ گیا۔ کوئی زلزلہ عظیم نہ آیا۔ نہ قادیان سے طاعون دور ہوا نہ کوئی آسمانی نشان ظاہر ہوا۔ تمام مخالفین مرزاقادیانی بغلیں بجاتے رہے ان کے سامنے کوئی دشمن فوت نہ ہوا۔ نہ کوئی مردہ زندہ ہوا۔ نہ مریض اچھا ہوا۔ خود مرزاقادیانی دائم المرض رہے۔ مفرح معجونات ومقویات کھاتے رہے۔مگر فائدہ نہ ہوا۔ آخر کار ہیضہ تخمہ کی موت سے فوت ہوئے۔ چونکہ سیدنا امام حسین علیہ السلام کے ذکر کو معاذ اﷲ گوہ کے برابر کہا کرتا تھا۔ اس لئے خود مرزا کو اسہال کی بیماری لاحق ہوئی۔
۶…امتی ہونا
شرائط ومعیار نبوت میں یہ بھی ایک شرط ہے۔ نبی کسی مدرسہ یا کالج کا طالب العلم وگریجویٹ نہ ہو۔ نہ کسی ملاں ومولویوں کے ہاں اس نے سبق پڑھا ہو۔ وہ لکھ پڑھ نہ سکتا ہو۔ بلکہ خداوند کریم کی طرف سے اس کو علم لدنی حاصل ہو۔ وہی اس کا معلم حقیقی ہو۔ نبی کو علم وہبی ہوتا ہے۔ علم اکتسابی کچھ علم نہیں ہوتا۔ کیونکہ ہر ایک عالم سے زیادہ اور عالم بھی ہوتا ہے۔ ’’فوجدا