احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
فیہ نفی الصانع المختار اوبما فیہ شرک وانکار النبوۃ وانکار ما علم من الدین بالضرورۃ اوانکار مجمع علیہ قطعاً اواستحلال محرم واما غیر ذلک فالقائل بہ مبتدع ولیس بکافر‘‘ {ہم اہل قبلہ میں سے صرف انہی لوگوں کو کافر سمجھتے ہیں جو خدا کے منکر ہوں۔ یا کسی شرکیہ عقیدے کے قائل ہوں۔ یا نبوت کے منکر ہوں۔ یا دین اسلام کے کسی بدیہی مسئلہ، یا اجماعی قطعی عقیدہ کا انکار کرتے ہوں یا کسی حرام کو حلال سمجھتے ہوں وغیرہ۔ لیکن اگر ضرورت دین کا انکار نہیں تو اس صورت میں وہ شخص مبتدع ہے کافر نہیں۔}
۸… تمہید ابوشکور سالمی میں ہے۔ ’’قالت الروافض ان العالم لا یکون خالیاً من النبی قط وہذا کفر لان اﷲ تعالیٰ قال وخاتم النبیین ومن ادعی النبوۃ فی زماننا فانہ یصیر کافراً ومن طلب منہ المعجزات فانہ یصیر کافراً ویجب الاعتقاد بانہ ماکان لاحد شرکۃ فی النبوۃ لمحمدﷺ بخلاف من قال ان علیاً کان شریکاً لمحمدﷺ وہذا کفر‘‘ {رافضیوں کا مذہب ہے کہ (نبوت رحمت ہے۔ اس لئے) دنیا نبی سے خالی نہیں رہ سکتی۔ مگر یہ عقیدہ سراسر کفر ہے۔ قرآن میں خداتعالیٰ نے حضورﷺ کو خاتم النبیین فرمایا ہے۔ بنابریں ہمارے عہد میں جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ کافر ہے اور اس سے معجزات طلب کرنے والا بھی کافر، نیز یہ عقیدہ بھی ضروری ہے کہ شرک فیء النبوۃ کفر ہے۔ بنابریں حضرت علیؓ کو حضورﷺ سے نبوت میں شریک ماننا کفر ہے۔}
۹… علامہ قاری (شرح فقہ اکبر ص۱۵۰) میں لکھتے ہیں۔ ’’دعویٰ النبوۃ بعد نبیناﷺ کفر بالاجماع‘‘ {آنحضرتﷺ کے بعد دعویٰ نبوت باتفاق تمام مسلمین کفر ہے۔}
۱۰… امام فضل اﷲ تورپشتی حنفی متوفی ۶۶۰ھ (معاصر شیخ سعدی) کتاب المعتمد فے المعتقد میں لکھتے ہیں۔ ’’اذاحادیث بسیار درست شدہ کہ نبوت بہ آمدن آنحضرتﷺ تمام شد بعد ازوے نبی دیگر نباشد، الیٰ ان قال۔ بحمداﷲ ایں مسئلہ درمیان اسلامیان روشن تراز آنست کہ آن رابہ کشف وبیان حاجت افتد۰ اما ایں قدر از ترس آں بیان کردیم کہ مبادا زندیقے، جابلے را بدیں شبہ درچاہ اندازد وبسیار باشد کہ ظاہر نیارند کردن وبدیں طریق پادر نہند کہ خدا برہمہ چیز قادر