احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
الغیر المشہورۃ ہذا ما حققہ المحققون‘‘ {اہل قبلہ متکلمین کی اصطلاح میں وہ لوگ ہیں جو ضروریات دین یعنی دین کے بدیہی اور مشہور مسائل کے مقر ہوں۔ بنابریں جو شخص ضروریات دین میں سے کسی چیز کامنکر ہوگا۔ جیسے حدوث عالم یا قیامت، یا خداتعالیٰ کے احاطہ علمی، یا فرضیت صوم وصلوٰۃ کا منکر ہو تو وہ اہل قبلہ میں داخل نہیں۔ اگرچہ زاہد مرتاض کیوں نہ ہو۔ علیٰ ہذا القیاس جس شخض میں کفر کے علامات موجود ہوں مثلاً سجدہ صنم یا کسی شرعی مسئلہ کا استخفاف کرے وہ بھی اہل قبلہ سے نہیں۔ اہل سنت کا یہ مسئلہ کہ ’’ہم اہل قلبہ کو کافر نہیں کہتے‘‘ اس سے مراد صرف یہی ہے کہ ہم عاصی کو اور دین کے غیر ضروری نظری مسائل کے منکر کو کافر نہیں کہتے۔ یہی محققین کامذہب اور عقیدہ وتحقیق ہے۔}
علامہ قاری (شرح فقہ اکبر ص۷۶) میں لکھتے ہیں۔ ’’والمرا دمن المعلوم ضرورۃ کونہ من الدبن بحیث یعلم العامۃ من غیر نظر والسندلال کوحدۃ الصانع ووجوب الصلوٰۃ وحرمۃ الخمر ونحوھا۰ واما من یؤول النصوص الواردۃ فی حشر الاجساد وحدوث العالم وغیرھا فانہ یکفر لما علم قطعاً من الدین انہا علی ظواہرھا‘‘ {ضروریات دین کے یہ معنی ہیں کہ وہ مسئلہ اس قدر مشہور اور واضح ہو کہ ہر عامی آدمی بھی بغیر فکر اور دلیل کے اس کا معترف ہو۔ جیسے توحید، وجوب نماز، حرمۃ شراب اور واضح رہے کہ جو لوگ حشر اجساد، حدوث عالم وغیرہ کی نصوص کی خود ساختہ تاویلیں کرتے ہیں وہ یقینا کافر ہیں۔ اس لئے کہ ان نصوص کو اپنے ظاہر پر چھوڑنا اور تسلیم کرنا جزوایمان ہے۔}
۶… (ب)جوہرۃ التوحید میں ہے۔ ’’ومن المعلوم ضروری ججد من دیننا یقتل کفراً لیس حد وفی شرحہ ان ہذا مجمع علیہ۰ وذکو ان الماتردیہ یکفرون بعد ہذا بانکارا لقطعی وان لم یکن ضروریاً (اکفار الملحدین ص۱۳)‘‘ {جو شخص دین اسلام کے کسی بدیہی مسئلے کا انکار کرے اس کو سزائے ارتداد میں قتل کر دیا جائے۔ شارح جوہرہ نے اس شعر کے ذیل میں لکھا ہے کہ اس مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں۔ یہاں تک لکھا ہے کہ ائمہ ماتردیدیہ جیسے ضروریات دین کے منکر کو کافر کہتے ہیں۔ اسی طرح ہر قطعی الثبوت مسئلہ کے منکر کو بھی کافر قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ ضروری (بدیہی) نہ ہو۔} ۷… عقائد عضدیہ میں ہے۔ ’’لا نکفر احداً من اہل القبلہ الا بما