احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
۳… شرح فقہ اکبر مؤلفہ ملا علی قاری ص۱۴۱ میں ہے۔ ’’اعلم ان المراد باہل القبلۃ الذین اتفقوا علی ماھو من ضروریات الدین کحدوث العالم وحشر الاجساد وعلم اﷲ بالکلیات والجزئیات وما الشبھہ ذلک من المسائل المہمات۰ فمن واظب طول عمرہ علی الطاعات والعبادات مع اعتقاد قدم العالم ونفی الحشر اونفی علمہ تعالیٰ بالجزئیات لا یکون عن اہل القبلۃ وان المراد بعدم تکفیر احد من اہل القبلۃ عند اہل السنۃ انہ لا یکفر مالم یوجد شیٔ من امارات الکفر وعلاماتہ ولم یصدر عنہ شیٔ من موجباتہ‘‘ {’’اہل قبلہ‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ضروریات دین مثلاً حدوث عالم، حشر اجساد، خداتعالیٰ کے احاطہ علمی اس نوح کے دوسرے اہم مسائل کے معترف ہوں۔ بنابریں جو شخص ہمہ عمر عبادت الٰہی میں صرف کردے مگر اس کا عقیدہ یہ ہو کہ عالم قدیم ہے۔ قیامت نہیں آئے گی۔ خداتعالیٰ جزئیات کو نہیں جانتا۔ یہ شخص اہل سنت کے نزدیک قطعاً اہل قبلہ سے نہیں۔ رہا اہل سنت کا یہ قول کہ ہم اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے۔ اس کے یہی معنی ہیں کہ افعال کفر (مثلاً سجدہ صنم) کا مرتکب نہ ہو اور علامات کفر (جیسے زنار باندھنا) سے ظاہر نہ ہوں۔}
۴… علامہ قونوی شارح عقیدہ طحاوی ص۲۴۲ کی تصریح دربارہ اہل قبلہ پہلے گذر چکی ہے۔
ضروریات دین کی حقیقت اور مفہوم
۵… (الف)علامہ عبدالعزیز فرہاری نبراس (شرح عقائد نسفیہ ص۵۷۲) میں لکھتے ہیں۔ ’’اہل القبلۃ فی اصطلاح المتکلمین من یصدق بضرویات الدین ای الامور التی علم ثبوتہا فی الشرع واشتہر فمن انکر شیئًا من الضروریات کحدوث العالم وحشر الاجساد وعلم اﷲ سبحانہ بالجزئیات وفرضیۃ الصلوٰۃ والصوم لم یکن من اہل الکعبۃ ولوکان مجاہداً بالطاعات وکذلک من باشر شیئًا من امارات التکذیب کسجود الصنم والاہانۃ بامر شرعی والا ستہزاء علیہ فلیس من اہل القبلۃ ومعنی عدم تکفیر اہل القبلۃ ان لا یکفر بارتکاب المعاصی ولا بانکارا لا مور الحنیفۃ