احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
اس لئے مرتد قرار دی گئی۔ (ب)قوم حینفۃ اور قوم اسد کا ارتداد دو وجہ سے تھا۔ فرضیت زکوٰۃ کا انکار، اور مسیلمہ، طلیحہ کی نبوت کا اعتراف۔ (ج)قوم حنیفہ اس لئے بھی مرتد تھی کہ وہ صبح اور مغرب کی نماز کی فرضیت کی منکر تھی۔ لہٰذا قوم حنیفہ سب سے بڑھ کر کافر تھی۔ (دور ردت میں مرتدین کے اصناف وانواع کی تحقیق وتفصیل جہاں تک مجھے علم ہے معالم السنن خطابی سے بڑھ کر کہیں نہیں۔ معالم شہر حلب میںزیر طبع ہے)۔ (۴)صحیح مذہب یہ ہے کہ مسلمان ہونے کے لئے تمام ضروریات اسلام کا اعتراف لازم ہے۔ مثلاً حدوث عالم، توحید باری تعالیٰ۔ اس کا قدم اس کا عدل اور اس کی حکمت، نفی تشبیہ وتعطیل، تمام انبیاء علیٰ الخصوص حضورﷺ کی نبوت کا اقرار آپ کی شریعت کے دوام کا عقیدہ (مرزاقادیانی نے جہاد کو منسوخ قرار دیا) اور یہ اعتراف کہ آپ کی تعلیم تمام تر صحیح ہے۔ قرآن تمام احکام شرعیہ کی اصل ہے۔ کعبہ رخ ہوکر نمازیں ادا کرنا فرض ہے۔ زکوٰۃ، صوم، حج، فرض ہیں۔ الغرض جو شخص تمام ضروریات دین کا معترف ہو وہ ہی مسلمان ہے۔}
۲… علامہ تفتازانی (شرح مقاصد ج۲ ص۲۶۸) میں لکھتے ہیں۔ ’’ان الذین اتفقوا علی ماھو من ضروریات الاسلام کحدوث العالم وحشر الا جساد وما یشبہ ذلک واختلفوا فی سواھا کمسئلۃ الصفات وخلق الاعمال مما لانزاع فیہ ان الحق فیہا واحد ہل یکفر المخالف للحق ام لا والا فلا نزاع فی کفر اہل القبلۃ المواظب طول العمر علی الطاعات باعتقاد قدم العالم ونفی حشر الاجساد ونفی العلم بالجزئیات ونحو ذلک وکذا بصدور شیٔ من موجیات الکفر عنہ‘‘ {اہل قبلہ کی تکفیر وعدم تکفیر کے متعلق اختلاف علماء صرف اسی صورت میں ہے کہ کوئی فرقہ یا فرد، حدوث عالم حشر اجساد وغیرہ ضروریات دین کا تو قائل ہو مگر بعض دوسرے عقائد میں عامہ مسلمین سے اس کا اختلاف ہو۔ مثلاً صفات الٰہیہ کا مسئلہ، خلق افعال کا نظریہ وغیرہ۔ مسائل اختلافیہ جن میں باتفاق فریقین حق متعدد نہیں بلکہ واحد ہے۔ فقط ایسے فرقہ کی تکفیر وعدم تکفیر میں علماء کا اختلاف منقول ہوا ہے۔ ورنہ جو فرقہ یا فرد ضروریات دین کا منکر ہو۔ جیسے قدم عالم کا معتقد ہو یا قیامت یا خداتعالیٰ کے علمی احاطے کا منکر ہو یا اسی نوع کا کوئی اور کفر اس سے سرزد ہو تو وہ باتفاق علماء کافر ہے۔ خواہ ہمہ عمر عبادت الٰہی میں صرف کر دے۔}