احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
الصبح وصلاۃ المغرب فازدادوا کفراً علیٰ کفر۰ (۴)والصحیح عندنا ان امۃ الاسلام تجمع المقرین بحدوث العالم وتوحید صانعہ وقدمہ وانہ عادل حکیم مع نفی التشبیہ والتعطیل عنہ واقر مع ذلک بنبوۃ الانبیاء وبنبوۃ محمدﷺ رسالتہ الیٰ الکافۃ وتبابید شریعتہ وبان کل ماجاء بہ حق وبانّ القراٰن منبع احکام الشریعۃ وبوجوب الصلوٰۃ الخمس الیٰ الکعبۃ وبوجوب الزکوٰۃ وصوم رمضان وحج البیت علیٰ الجملۃ فکل من اقر بذلک فہو داخل فی ملۃ الاسلام‘‘ {مسلمان کس کو کہتے ہیں؟ متکلمین کے مذاہب حسب ذیل ہیں۔ (۱)بقول ابوالقاسم کعبی معتزلی مسلمان وہ ہے جو حضورﷺ کی نبوت اور آپ کی شریعت کی حقانیت کا معترف ہو۔ اس اقرار کے بعد اس کے عقائد خواہ کچھ بھی ہوں وہ مسلمان شمار ہوگا۔ (۲)خراسان کے کرامیہ (متبعین محمد بن کرام کرامیہ اپنے معبود کو مجسم مانتے ہیں۔ کرامیہ مرجئہ کی شاخ ہیں۔ دیکھو مقالات اشعری ج۱ ص۱۴۱) کے مذہب میں مسلمان وہ ہے جو توحید ورسالت کا زبان سے اعتراف کرے۔ (کفران کے یہاں انکار اور جحود کا نام ہے۔ دیکھو مقالات ج۱ ص۱۴۱) خواہ اس کے دل میں زندقہ کفر والحاد ہی بھرا ہو۔ اسی لئے ان کے ہاں دور نبوت کے منافق پکے مسلمان تھے۔ ان کا ایمان (عیاذ باﷲ) جبریل، میکائیل، انبیائ، ملائکہ کے ایمان سے مساوی تھا۔ یہ ہر دو مذہب سراسر غلط اور باطل ہیں۔ کیونکہ فرقہ عیسویہ (ازیہود اصبہان) اور یہود کافرقہ شارکانیہ (شارکان پیشوا کا نام ہے) ہر دو فرقے حضورﷺ کی نبوت کے معترف، دین اسلام اور آپؐ کی شریعت کے مقر، قرآن کی حقانیت کے مصدق، اذان، نماز، روزہ حج وغیرہ کی مشروعیت کے قائل ہیں۔ مگر ساتھ ہی کہتے ہیں کہ آپؐ کی نبوت صرف عرب کے لئے ہے۔ بنی اسرائیل اس کے مکلف نہیں۔ بعض شارکانی تو ’’لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ پڑھتے بھی ہیں۔ مذکورہ بالا ہر دو معیاروں کے رو سے ان ہر دو گروہوں کو مسلمان تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ وہ قطعاً کافر ہیں۔ (۳)بعض فقہاء اہل حدیث کے خیال میں مسلمان وہ ہے جو کعبہ مقدسہ کو اپنا قبلہ نماز تسلیم کرے۔ (غالباً ’’اہل قبلہ‘‘ کی اصطلاح کی ابتداء یہیں سے ہوئی) یہ مذہب بھی قطعاً غلط ہے۔ کیونکہ دور ردت میں ایک جماعت باوجود کعبۃ اﷲ کو قبلہ مانتی تھی۔ وہ اس لئے مرتد قرار دی گئی کہ فرضیت زکوٰۃ کی منکر تھی۔ (تنبیہ) واضح رہے کہ دور ردت میں مرتدین کے کئی گروہ تھے۔ (الف)قوم کیندہ اور قوم تمیم صرف فرضیت زکوٰۃ کی منکر تھی۔