احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
۔ ’’لا لکفرہم بکل ذنب مناقضۃ لقول الخوارج الذین یکفرون بکل ذنب اوبکل ذنب کبیر وکفر المعتزلۃ الذین یقولون یحبط ایمانہ کلہ بالکبیرۃ فلا یبقی معہ شیٔ ومن الایمان ولایدخل فی الکفر وبقولہم بخروجہ من الایمان اوجبوا لہ الخلود فی النار‘‘ {اس جملہ میں خوارج کی تردید ہے جو ہر گناہ کے مرتکب کو (صغیرہ ہو یا کبیرہ) کافر کہتے ہیں اور بعض خوارج فقط کبیرہ کے مرتکب کو کافر قرار دیتے ہیں۔ علی ہذا القیاس اس جملہ میں معتزلہ کی بھی تردید ہے۔ جن کے ہاں مرتکب گناہ ایمان سے قطعاً محروم ہو جاتا ہے جس کی پاداش میں ابدالاباد تک جہنم میں رہے گا۔ گو کفر میں بھی داخل نہیں ہوتا۔}
۳… شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں۔ ’’نحن اذا قلنااہل السنۃ متفقون علی انہ لا یکفر بالذنب فانما نرید بہ المعاصی کالزنا والشرب (کتاب الایمان ص۱۲۱)‘‘ {ہم جب یہ کہیں کہ اہل سنت گناہگار کو کافر نہیں کہتے تو اس سے ہماری مراد فقط عاصی ہوتا ہے۔ جیسے بدکار اور شراب خور، وغیرہ (ضروریات دین کا منکر مراد نہیں ہوتا)۔}
۴… شرح فقہ اکبر بحث ایمان میں علامہ قونوی سے نقل ہے۔ ’’وفی قولہ بذنب اشارۃ الیٰ تکفیر بفساد اعتقادہ کفساد اعتقاد المجسمۃ والمشبہۃ ونحوہم لان ذلک لا یسمّٰی ذنباً والکلام فی الذنب (اکفار الملحدین)‘‘ {لفظ ’’ذنب‘‘ میں ادھر اشارہ ہے کہ بد عقیدہ مثلاً تجسیم باری کا قائل اس کو مخلوقات سے مشابہ ماننے والا، وغیرہ عقائد رکھنے والا کافر ہے۔ کیونکہ بد عقیدگی کو اصطلاحاً ’’ذنب‘‘ نہیں کہتے۔}
اہل قبلہ کا مصداق
جب مسئلہ مذکور کے اصلی الفاظ اور اس کا مقصد معین ہوگیا تو اب یہ بھی ضروری ہے کہ لفظ ’’اہل قبلہ‘‘ کا مصداق بھی سلف ہی کے کلام سے معین کیا جائے۔ تاکہ دوٹوک فیصلہ کیا جاسکے۔ ’’ولیہلک من ہلک عن بینۃ ویحیی من یحیی عن بینۃ‘‘
مصداق مذکور معین کرنے کے لئے ہمارے سامنے سلف صالحین کے اقوال کا اتنا ذخیرہ موجود ہے کہ اگر ہم اس تمام کونقل کریں تو ایک مبسوط کتاب تصنیف ہو۔ سردست ہم نہایت ہی اہم اور ضروری حصص کو سپرد قلم کرتے ہیں۔ وباﷲ الثقۃ!