احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
’’ولا نکفر احداً من اہل القبلۃ بذنب مالم لیستحلہ وقال العلامۃ القونوی فی شرح العقیدۃ المذکورۃ ص۲۴۲ والمراد باہل القبلۃ من یدعی الاسلام ولیستقبل الکعبۃ وان کان من اہل الاھواء اومن اہل المعاصی مالم یکذب بشیٔ مما جاء بہ الرسولﷺ‘‘ {محض گناہوں کی وجہ سے ہم کسی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کرتے۔ جب تک کوئی گناہ کو حلال سمجھ کر نہ کرے۔ علامہ محمود قونوی شرح عقیدہ طحاویہ ص۲۴۲ میں لکھتے ہیں۔ اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اسلام کے مدعی اور کعبہ رخ ہوکر نماز ادا کریں۔ خواہ مبتدع ہوں۔ خواہ فاسق البتہ ضروری ہے کہ ضروریات دین کی تکذیب نہ کریں۔ ورنہ اہل قبلہ نہیں۔} (طبقات کبریٰ از سبکی ج۱ ص۴۷،۴۸)
۴… حضرت امام ابوالحسن اشعری متوفی ۳۲۴ھ امام الاشاعرہ کتاب (الابانتہ ص۱۰) میں لکھتے ہیں۔ ’’نری ان لا نکر احداً من اہل القبلۃ بذنب یرتکبہ کالزنا، والسرقۃ، وشرب الخمر کمادانت بذلک والخوارج وزعموا انہم بذلک کافرون‘‘ {ہمارا عقیدہ ہے کہ کوئی گنہگار گناہ کی وجہ سے (مثلاً زنا، چوری، شراب نوشی) سے کافر نہیں ہوتا۔ ہمارا اس مسئلہ میں خوارج سے اختلاف ہے۔ جو عاصی کو گناہ کی وجہ سے قطعی کافر اور مخلد فی النار کہتے ہیں۔}
امام ابوالقاسم بن عساکر نے بھی کتاب (تبیین کذب المفتری ص۱۶۰) پر امام اشعری سے بعینہ یہی الفاظ نقل کئے ہیں۔ غرض یہ مسئلہ سلف صالحین سے جہاں کہیں بھی منقول ہوا ہے لفظ ’’ذنب‘‘ سے مقید ہے۔
جملہ مذکورہ کا حل
جملہ مذکورہ کی ساخت اور وضع صاف صاف بتلارہی ہے کہ یہ دراصل خوارج اور معتزلہ کی تردید میں کہاگیا۔ ضروریات دین کے منکر قطعاً اس سے مراد نہیں۔ بلکہ عاصی مراد ہیں۔ خوارج گنہگار کو کافر قرار دیتے ہیں اورمعتزلہ کے یہاں عاصی نہ مؤمن ہے اور نہ کافر۔ تاہم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنمی ہے۔
۱… امام الاشاعرہ ابوالحسن اشعری کی تصریح حال ہی میں گذر چکی ہے کہ اس جملہ سے مقصد خوارج کی تردید ہے جو عاصی کو کافر قرار دیتے ہیں۔
۲… ان کے علاوہ علامہ قونوی حنفی (شرح عقیدہ طحاویہ ص۲۴۷) میں لکھتے ہیں۔