احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
لا ینظر فی اﷲ عزوجل ولا یکفر احداً بذنب وروی عن خلف بن یحیی قال سمعت حماد بن ابی حنیفۃ یقول سمعت اباحنیفۃ الجماعۃ ان فضل ابابکر وعمر ولا تکفر الناس بالذنوب‘‘ {نوح جامع سے مروی ہے کہ انہوں نے امام ابوحنیفہ سے اہل سنت وجماعت کے معنی پوچھے۔ آپ نے من جملہ باتوں کے فرمایا کہ سنی وہ ہے جو عاصی کی تکفیر نہ کرے۔ نیز ابن عبدالبر نے امام حماد فرزند امام ابوحنیفہ سے روایت لائی ہے کہ انہوں نے امام اعظمؒ سے ’’جماعۃ‘‘ کے معنی پوچھے تو آپ نے چند اور باتوں کے بعد فرمایا کہ گناہ کی وجہ سے بندگان خدا کی تکفیر مت کرو۔}
۲… علی ہذا القیاس ’’الیواقیت والجواہر‘‘ میں یہ مسئلہ حضرت امام شافعیؒ سے بھی مذکورہ بالا الفاظ میں منقول ہوا ہے اور محقق ابن امیر الحاج نے بھی (شرح تحریر ج۳ ص۳۱۸) میں تصریح کی ہے کہ امام شافعی، فقط، گنہگار اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کرتے۔ لیکن ضروریات دین کے منکر کو ہر چند کہ وہ اہل قبلہ سے ہی کیوں نہ ہو کافر جانتے ہیں۔
۳… حضرت امام ابو جعفر طحاوی حنفی متوفی ۳۲۱ھ کتاب ’’العقیدہ ۱؎‘‘ میں فرماتے ہیں۔
۱؎ (’’عقیدہ‘‘ طحاوی کی بیحد تعریف) حافظ امام تاج الدین سبکی اپنی کتاب ’’معید النعم‘‘ (مطبوعہ لندن ص۳۵،۱۰۷) میں لکھتے ہیں۔ الحمدﷲ! کہ مذاہب اربعہ (باستثنائے ان افراد کے جو اعتزال وتجسم وغیرہ کا شکار ہوئے) تمام کے تمام عقائد میں کلیتہً متحد ومتفق ہیں اور سب کے سب امام ابوجعفر طحاوی حنفی کی کتاب العقیدہ پرعامل ہیں۔ جس کو تمام سلف وخلف نے شرف قبولیت بخشا اور اپنے عقائد کی تصحیح کے لئے اس کو محک قرار دیا۔ رہا امام اشعری کا عقیدہ ومسلک سو وہ بتمامہ عقیدہ طحاوی سے ماخوذ اور اسی کی تفصیل وتشریح ہے۔ لہٰذا عقیدہ طحاوی اصل الاصول اور اس کے بعد کے تمام کتب ’’عقیدہ‘‘ فروع ہیں۔ عقیدہ امام اشعری ہو، یا عقیدہ امام ابو القاسم قشیری، خواہ عقیدہ المرشدہ ہو۔ امام طحاوی اور امام اشعری گو معاصر ہیں۔ جیسے سنہ وفات سے معلوم ہوتا ہے۔ مگر طحاوی کی امامت الشعری سے تقریباً چالیس سال مقدم ہے۔ کیونکہ امام اشعری پورے چالیس سال تک ابوعلی حیائی کے زیر اثر رہ کر معتزلی رہے۔ ۳۰۰ھ میں تائب ہوئے۔ بعدازاں تقریباً تین سال تک جبائی سے ان کے مناظرے رہے۔ جبائی کی وفات ۳۰۳ھ میں ہوئی۔ (تبیین از حافظ ابن عساکر ص۵۶،۹۱)
’’کتاب الابانہ‘‘ امام اشعری کی سب سے آخری تصنیف ہے۔ اس کی تالیف اس وقت ہوئی۔ جب آپ بغداد تشریف لائے۔ ضمیمہ ابانتہ (طبع حیدر آباد ص۱۰۹) میں ہے کتاب ابانتہ اشعری کی آخری تصنیف ہے۔ محمد بن موصلی (مؤلف کتاب الصواعق المرسلہ) نے کتاب سیف السنۃ میں اس کی تصریح کی ہے۔ اسی تقدم امامت کے رو سے سبکی نے ’’معید النعم‘‘ میں عقیدۂ طحاوی کو مذاہب اربعہ کا امام تسلیم کیا اور ہم نے ابانہ پر اس کو مقدم کیا۔