احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
ختم الانبیاؐء کا جواب
’’فکتب الیہ رسول اﷲﷺ بسم اﷲ الرحمن الرحیم من محمد رسول اﷲ الیٰ مسیلمۃ الکذاب۰ اما بعد فان الارض ﷲ یورثہا من عبادہ من یشاء والعاقبۃ للمتقین والسلام علی من اتبع الہدی‘‘ {حضورﷺ نے اس کے جواب میں لکھا۔ از محمد رسول اﷲﷺ۔ بسوئے مسیلمہ کذاب۔ واضح ہو کہ مملکت درحقیقت خدا تعالیٰ کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ مگر آخری کامیابی صرف نیکوں کے لئے ہے۔ آخر میں تمام راہ راست پر چلنے والوں کو سلام۔}
دعویٰ اسلام اور مسیلمہ
مذکورہ بالا واقعات سے واضح ہوچکا ہے کہ مسیلمہ کذاب حضور رسالت مآبﷺ کی نبوت کا معترف تھا۔ مگر ختم نبوت کا منکر ہوکر شرک فی النبوۃ کا مدعی تھا۔ ہر چند کہ وہ نماز کی فرضیت کا قائل نہ تھا۔ مگر اس کے ہاں برابر اذان واقامت کے ساتھ نماز ادا ہوا کرتی تھی۔ طبری اور کامل میں ہے۔ ’’وکان الذی یؤذن لہ عبداﷲ ابن النواحۃ والذی یقیم لہ حجیر بن عمیر‘‘ {مسیلمہ کذاب کا مؤذن عبداﷲ بن نواحہ اور اقامت کہنے والا حجیر بن عمیر تھا۔}
شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور مذکورہ بالا دجاجلہ
(شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ بغیۃ المرتاد ص۱۲۱) میں لکھتے ہیں۔ ’’معلوم ان اتباع مسیلمۃ الکذاب والاسود العنسی وطلیحۃ الاسدی وسجاح کانوا مرتدین وقد قاتلہم اصحاب النبی صلعم مع ان مسیلمۃ انما ادعی المشارکۃ فی النبوۃ ولم یدع الا لوھیۃ ولا اتی بقران یناقض التوحید بل جاء بکلام یتضمن ما ادعاہ من المشارکۃ فی الرسالۃ واسجاع من الکلام الذی لا فائدۃ فیہ حتیٰ کان مؤذنہ یقول اشہد ان محمداً ومسیلمۃ رسول اﷲ‘‘ {قطعی بات ہے کہ مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، طلیحہ، سجاع کے ہم خیال مرتد تھے۔ اسی بناء پر صحابہ کرامؓ نے ان سے جہاد کیا۔ حالانکہ مسیلمہ صرف ختم نبوت کا منکر اور شرک فی النبوۃ کا قائل تھا۔ ورنہ نہ تو اس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور نہ خلاف توحید کوئی کتاب تصنیف کی۔ بلکہ اس کے کلام میں (قادیانی کذاب کی طرح) یا خانہ ساز نبوت کا تذکرہ ہوتا تھا۔ یا چند فضول مگر مسجع فقرے تاآنکہ اس کا مؤذن کہتا تھا۔ اشہدان محمداً ومسیلمۃ رسول اﷲ۔}