احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
قبضہ ہو۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ یہ ہر گز نہیں ہوسکتا۔ البتہ خدائی لشکر تم سے برسر پیکار ہوںگے۔
دعویٰ نبوت
وفد مذکور واپس گیا۔ حجۃ الوداع کے بعد حضورﷺ کی ناسازی طبیعت سن کر مسیلمہ نے موقع کو غنیمت سمجھا اور نبوت کا اعلان کر دیا۔ بلاذری، طبری، کامل میں ہے۔ ’’فلما انتہی الیٰ الیمامۃ ارتد عدواﷲ وتنباء وادعی انہ شریک لرسول اﷲ صلعم فی النبوۃ۰ ثم کان یسمع السجعات فیما یقول مضاہاۃ للقرآن ووضع عنہم الصلوٰۃ واحل لہم الخمر والزنا ونحو ذلک وشہد لرسول اﷲ صلعم انہ نبی فصفقت بنو حنیفۃ علی ذلک‘‘ {مسیلمہ جب سفر مدینہ سے یمامہ واپس آیا تو مرتد ہوکر اس نے نبوت کا اعلان کر دیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ میں نبوت میں حضورﷺ کا شریک ہوں۔ قرآن کا معارضہ کرتے ہوئے اس نے چند مسجع جملے بھی بطور وحی پیش کئے۔ اپنے متبعین سے فرضیت نماز ساقط کر دی۔ شراب اور زنا کو حلال قرار دیا۔ باایں ہمہ وہ حضورﷺ کی رسالت کا اعتراف کیا کرتا تھا۔ اس پر بنو حنیفہ نے خوشی کے مارے تالیاں بجائیں۔}
شیخ الاسلام ابن قیم زادالمعاد ج۲ ص۲۶ میں لکھتے ہیں۔ ’’فلما قدموا الیمامۃ ارتد عدو اﷲ وتنباء وقال انی اشرکت فی الامر معہ ثم جعل لیسجع السجعات مضاھاۃ للقرآن ووضع عنہم الصلوٰۃ واحل لہم الخمر والزنا وھو مع ذلک لیشہد لرسول اﷲ صلعم انہ نبی‘‘ {جب وفد بنی حنیفہ یمامہ واپس آیا تو دشمن خدا مسیلمہ مرتد ہوکر نبی بن بیٹھا اور کہنے لگا میں حضورﷺ کے ساتھ نبوت میں شریک ہوں۔ اس نے قرآن کے رنگ میں کچھ مسجع عبارتیں بھی کہیں اور اپنے متبعین سے نماز کی فرضیت ساقط قرار دی اور زنا وشرب خمر حلال کر دیا۔ مگر باایں ہمہ حضورﷺ کی نبوت کا معترف تھا۔}
مسیلمہ کا دعوت نامہ
قادیانی کی طرح مسیلمہ کو بھی تبلیغی نامہ وپیام کی سوجھی۔ حوصلہ بڑا پایا تھا۔ اس لئے خود سرور کائناتﷺ کو ۱۰ھ میں دعویٰ نبوت کے بعد ذیل کی چٹھی لکھی۔ ’’من مسیلمۃ رسول اﷲ الیٰ محمد رسول اﷲ اما بعد فان لنا نصف الارض ولقریش نصفہا ولکن قریشا قوم لاینصفون والسلام علیکم‘‘ {’’از مسیلمہ پیغمبر خدا‘‘ بسوئے محمد رسول اﷲ۔ واضح رہے کہ عرب کی نصف مملکت ہماری ہے۔ (کیونکہ میں نبوت میں آپ کا شریک ہوں) اور نصف قریش کی۔ لیکن قریش بڑے بے انصاف ہیں۔ آخر میں تحفہ سلام قبول کیجئے۔}