احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
ہے تو آپ کی چشم مبارک میں ’’الکفر ملۃ واحدۃ‘‘ کا تنکا کیوں چبھا۔ واہ میر صاحب واہ ؎ چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد کے مشہور ومعروف مقولہ کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھ کر ارشادات گرامی فرمایا کریں۔ ورنہ پھر ہم بھی آپ کی طرح جبراً وقہراً حصہ لینے پر مجبور ہوںگے اور پھر پرانی اور فراموش شدہ روایات، واقعات اور کہانیوں کی یاد چلتی پھرتی اور بولتی چالتی تصویروں کی طرح زندہ کی جائے گی اور پورے الفاظ میں کہتا ہوں کہ ؎ رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو (فخر الدین ملتانی، کتاب گھر قادیان، مورخہ ۱۲؍جولائی ۱۹۳۷ئ) الحب یعمی ویصم فرمایا گیا ہے کہ محبت انسان کو اندھا اور بہرہ کر دیتی ہے۔ مگر جہاں علاوہ محبت عمومی کے تعلقات ورشتہ داری خصوصی بھی شامل حال ہو جائیں وہاں تو نور علیٰ نور کا معاملہ ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں تو انسان بس مطلق فنا در فنا کے مقام میں ہوکر روحانی اور جسمانی طور پر مجذوبیت کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ اس لئے اس وقت اس کا کوئی فعل اختیاری نہیں ہوتا۔ بالکل یہی کیفیت میرے نہایت ہی کرم فرما اور محب ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب پنشنر پر طاری ہے۔ حضرت میر صاحب موصوف چونکہ میرے نہایت ہی بے تکلف بزرگوں میں سے واقع ہوئے ہیں۔ اس لئے میں حق رکھتا ہوں کہ ان کے کسی ریمارک پر جو میرے متعلق ہو یا جس میںمیرا کسی طرح کا اشتراک ہو بے تکلفانہ انداز میں جرح قدح کروں۔ حضرت قبلہ میر صاحب موصوف نے ۶؍جولائی کی ریتی چھلہ والی تقریر میں میرے متعلق اور مصری صاحب کے متعلق ارشاد فرمایا کہ: ’’جب کہ وہ (یعنی ہم دونوں) قادیان میں نہایت غربت اور تنگدستی کی حالت میں آئے تھے تو حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے کس طرح ذاتی طور پر ان پر بے حد احسان کئے۔‘‘ میرا ظن غالب ہے کہ قبلہ میر صاحب موصوف نے یہ اظہار خیال اپنے ذاتی علم کی بناء پر نہیں فرمایا۔ کیونکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ شیخ صاحب مصری اورخاکسار ملتانی چند ماہ آگے پیچھے قادیان میں ۱۹۰۶ء میں حاضر ہوئے اور خدانخواستہ ایسی ناداری کی حالت نہیں تھی جیسے دہلی کے غدر زدہ بے کس وبے نوا فقط اپنی جانیں بصد مشکل بچا بچا کر پنجاب میں پناہ گزین ہوئے تھے۔ بلکہ خدا کے فضل سے ہم دونوں پیچھے سے اچھے کھاتے پیتے تھے۔ ہمارے والدین کسی وظیفہ یا