احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
نذرانہ پر گذارہ نہ کرتے تھے۔ بلکہ تاجر تھے۔ محض صداقت کی وجہ سے سب کچھ قربان کر کے یہاں آئے۔ خود حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اﷲ بھی اس وقت یعنی ۱۹۰۶ء میں زندگی کے ابتدائی مرحلہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سایہ عاطفت میں گذار رہے تھے۔ حسن اتفاق کی بات ہے کہ اس وقت کے ہمارے جیسے مہاجرین فی سبیل اﷲ کے ان داتا وہ لوگ تھے جو روٹھ کر لاہور جابیٹھے ہیں۔ میں مدرسہ میں پڑھا، قرض حسنہ لے کر جو پائی پائی وصول کر لیا گیا۔ اس کے بعد مختلف ملازمتیں قادیان اور باہر کرتا پھرا۔ اس کے بعد کتاب گھر محض تو کل علی اﷲ شروع کیا اور جماعت جانتی ہے کہ میں نے کیا کچھ کیا اور دوسرے اﷲ تعالیٰ نے محض اپنے فضل وکرم سے مجھ پر میری توقعات سے بڑھ کر برکت کا نزول فرمایا۔ کئی ایک مکان بنائے جب کبھی کسی دینی یا پولیٹکل خدمت کے لئے بلاوا آیا۔ بلاتامل اپنے گھر سے کھا کما کر خدمات انجام دیں۔ کئی مرتبہ سر کو ہتھیلی پر رکھ کر خدمت کرنے کا موقعہ نصیب ہوا۔ ذاتی طور پر مجھے حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کا کوئی خاص قابل ذکر احسان یاد نہیں۔ سوائے دعاؤں کی درخواستوں کا جواب ثبت میں دینے کے یا کبھی کوئی کتاب یا قرآن شائع کیا تو اس پر کبھی نہ کبھی کوئی ریویو فرمادیا گیا۔ حضرت میر صاحب نے ’’ذاتی طور‘‘ پر زیادہ زور دے کر مجھے ممنونیت اور مشکوریت کا اشارہ فرمایا ہے۔ مگر میں ایاز قدر خودبشناس پر عمل کرتا ہوا اپنے تئیں خوب پہنچانتا ہوں کہ میرے اندر اس وقت یا اس وقت کوئی خاص ایسے ذاتی جوہر اور لیاقت موجود نہیں۔ جن کی وجہ سے حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ذاتی طور پر مجھے خاص طور پر نوازتے یا احسان فرماتے۔ اس لئے میں بغیر کسی استحقاقی صفت کے حضرت صاحب سے کسی طرح ذاتی احسان کی توقع رکھ سکتا ہوں؟ اور یہی کیفیت شیخ مصری صاحب کی ہے۔ مصری صاحب فرمان خصوصی کے ماتحت انٹرنس اور مولوی فاضل پاس کر کے مع مکرم سید زین العابدین ولی اﷲ شاہ صاحب مصر بغرض تعلیم گئے۔ مصری صاحب باقاعدہ عالم بن کر آئے اور مکرم شاہ صاحب موصوف ماشاء اﷲ ہوکر واپس تشریف لائے۔ مگر بعض حالات ومجبوریات کے ماتحت مصری صاحب کم گریڈ والی تنخواہ پر مقرر ہوئے اور شاہ صاحب موصوف بعض حالات وضروریات پیش آمدہ کے ماتحت آفیشل لائن میں اعلیٰ تنخواہ پر مقررکئے گئے۔ مصری صاحب نے اپنی محنت اور ذاتی خرچ سے بی۔اے پاس کیا۔ اپنے بچوں کو پڑھایا اور کسی قسم کی امداد حضرت صاحب سے نہ ذاتی اور نہ ہی صفاتی طور پر حاصل کی۔ باقی احسانات کی تفصیل پر خود مصری صاحب ہی روشنی ڈال سکتے ہیں۔ بایں ہمہ ہم تو پھر بھی حضرت صاحب کے بے حد مشکور ہیں کہ انہوں نے اب تک کے