گلدستہ سنت جلد نمبر 4 |
صلاحی ب |
|
دیں تو تم صبر کرو۔ بلکہ فرمایا:تَکَفَّ شَرَّکَ عَنِ النَّاسِ. (صحیح مسلم: رقم 260)ترجمہ: ’’تم لوگوں کو اپنے شر سے بچاؤ‘‘۔بیوی کو بھی بچاؤ، سسرال والوں کو بھی بچاؤ، بھائیوں کو بھی بچاؤ، رشتہ داروں کو بھی بچاؤ، جن سے کاروباری شراکت ہے اُنہیں بھی بچاؤ۔ اَخلاق صرف اس چیز کا نام نہیں ہے کہ لوگ تکلیف دیں اور تم صبر کرو۔ اخلاق اس چیز کا بھی نام ہے کہ تم کسی کو تکلیف نہ دو۔ انسانی اَخلاق یہ ہوتے ہیں ، ورنہ تو جانور بھی کسی کو تکلیف نہیں دیتے۔ اُس کو ہم ماریں تو جواب دیں گے؟ بعض جانور ہوتے ہیں گائے بکری تکلیف نہیں دیتے، آدمی لڑنے پر آجائے تو الگ بات ہے۔ یہ تو جانوروں میں بھی صفت ہے۔ اخلاق یہ ہے کہ تم کسی کو تکلیف نہ دو۔ آج ہم دیکھیں میری ذات سے کسی کو تکلیف تو نہیں ہو رہی۔ عمل اس کسوٹی پر آجائے اِن شاء اللہ بیڑہ پار ہوجائے گا۔صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم کا اہتمامِ سنت حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم کا اہتمامِ سنت کیا تھا؟ اس کےبغیر بات پوری نہیں ہوتی۔ چند باتیں سن لیجیے! حضرت عبداللہ بن عمرi کو دیکھا گیا کہ کھلے ہوئے بٹن کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں ۔ کسی نے پوچھا: حضرت! ایسے کیوں پڑھ رہے ہیں ؟ فرمایا: آقاﷺ کو ایسے پڑھتے دیکھا تھا۔ (ترغیب: 182/1)حضرت عبداللہ بن عمرi مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان جب سفر کرتے تو عجیب معاملہ ہوتا۔ جہاں آقاﷺ پڑاؤ ڈالا کرتے تھے، اُتر کر وہاں پڑاؤ ڈالتے۔ جہاں جہاں آقاﷺ نے قیلولہ کیا ہوتا، وہاں رک جاتے۔ ایک مقام کا نام پڑ گیا ’’شجرِ قیلولہ‘‘ تو آپ وہاں جا کر قیلولہ کرتے۔ _