گلدستہ سنت جلد نمبر 4 |
صلاحی ب |
|
نیت ہمارے ہی دیے ہوئے مال کو رشوت بھی بناسکتی ہے جس پر جہنم کے فیصلے ہوں گے۔ نیت کا اعتبار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ہدیہ کے چند مسائل ہدیہ کے بارے میں چند مسائل سن لیجیے اور اسے یاد رکھنے کی کوشش کریں ۔ ہدیہ قبول کرنا سنت ہے بشرطیکہ کسی دنیاوی غرض، یا دنیاوی مقصد کے لیے نہ دیا گیا ہو، خالص اللہ کے لیے دیا گیا ہو، محبت کے لیے دیا گیا ہو، رشتے داری جوڑنے کے لیے دیا گیا ہو۔ رشتے داری میں جو خرابیاں ہیں ان کو ختم کرنے کے لیے دیا گیا ہو۔ اچھی نیت کے ساتھ ہدیہ کا لینا اور دینا، یہ عین سنت ہے۔ جو سرکاری اشخاص ہیں ، عہدیدار ہیں ، تو انہیں جب تحائف ملیں تو اپنے عہدے کی وجہ سے ان تحائف کا لینا ان کے لیے اب جائز نہیں ۔ رہا کسی مفتی یا کسی عالم کو ہدیہ اس لیے دیا جا رہا ہے کہ وہ مسئلے میں اس کی رعایت کرے تو ایسا ہدیہ لینا اور دینا دونوں حرام ہیں ۔ چاہے طلاق کا مسئلہ ہو یا کاروباری مسئلہ ہو۔ یہ سمجھ کر دینا کہ وہ شریعت میں سے کچھ گنجائش نکال کر ہمیں بتائیں گے اور ہمارا معاملہ ہماری چاہت کے مطابق آسان ہوجائے گا۔ اس نیت سے کسی عالم کو دینا منع ہے۔ ہاں ! کسی مفتی یادین کی خدمت کرنے والے کو محبت واُلفت، عقیدت کی بنیاد پر ہدیہ دیا جا رہا ہے کہ یہ شخص دین کی خدمت کر رہا ہے۔ اور یہ دین کی خدمت اپنی سہولت کے ساتھ کرسکے گا اگر اس کی مدد کی جائے۔ یہ دینا بہت بڑا ثواب ہوگا۔ یہ اپنی ضروریات کو میرے ہدیہ سے پورا کرے، اور اپنے اوقات کو خوب شوق اور محبت کے ساتھ دین میں لگائے۔ یہ ہدیہ دینا باعثِ برکت بھی ہوگا۔جس کو قرض دیا گیا ہو اس سے ہدیہ لینا منع ہے۔ اسی طرح ایسے ہدایا جو منگنی اور