گلدستہ سنت جلد نمبر 4 |
صلاحی ب |
|
کھائی۔ اور جب سے یہ پیدا ہوا ہے میں نے زندگی بھر اسے کبھی حرام نہیں کھلایا، تمہارے خزانے سے کبھی نہیں کھلایا، ہمیشہ حلال ہی کھلایا، اور حلال کھانے والا شہید تو ہو سکتا ہے مگر پیٹھ دکھاکر واپس نہیں آسکتا۔ہم بھی حلال کھائیں اور اپنے کاروبار کو صاف گوئی سے چلانے کی کوشش کریں ۔ کیوں کہ ابھی زندگی میں موقع ہے۔ موت سے پہلے ہم اپنے آپ کو صاف کرنے کی کوشش کریں ۔ پھر دیکھیں یہی دوکان ہوگی، مگر موت کے بعد انبیاءf کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ یہ کوئی چھوٹی بات ہے کہ دوکان، کاروبار اللہ پاک نے ہمیں ایسی نعمت دی ہے، اگر اس نعمت کا حق ادا کریں تو قیامت کے دن یہ ہمیں انبیاf کے جھرمٹ میں کھڑا کر دے گی۔ تاجر لوگ کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار، یا جتنے بھی اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیجے ہیں ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ یہ کوئی چھوٹی نعمت نہیں ہے، بہت بڑی نعمت ہے۔ لیکن اس کے لیے محنت کرنا ہوگی۔ جذبات کی قربانی دینی ہوگی۔ زبان کو کنڑول میں رکھنا ہوگا، پھر دیکھیں اللہ کی رحمتیں کیسے متوجہ ہوں گی۔شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ تعالی کا واقعہ: ایک بہت ہی مشہور ترین واقعہ سن لیجیے۔ چوں کہ بہت سبق آموز واقعہ ہے، اس لیے میں اس کو یہاں پر ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں ۔ بہرحال واقعہ یہ ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ تعالی بچپن میں علم حاصل کرنے کے لیے کہیں جانا چاہ رہے تھے۔ ماں نے کپڑوں میں کچھ پیسے سی دیے اور بیٹے کو پیسوں کا بتا دیا کہ یہ تمہارے کام آئیں گے۔ تم علم حاصل کرنے جاؤ۔ بیٹا! کبھی جھوٹ نہیں بولنا، ہمیشہ سچ بولنا۔ یہ نصیحتیں سن کر شیخ حصولِ علم کے لیے ایک قافلہ کے ساتھ چل پڑے۔ راستے میں اچانک ڈاکوؤں نے حملہ کر دیا اور _