گلدستہ سنت جلد نمبر 4 |
صلاحی ب |
|
کرتے ہیں ، نہ پیشاب کرتے ہیں ۔ اور ان کے بازو ایسے ہیں جن کی لمبائی انتہائے نظر جہاں تک نظر جاسکتی ہے تاحدّ ِنگاہ وہاں تک ہو گی۔ اور جتنا مرضی چاہیں ان گھوڑوں پر بیٹھ کر جہاں چاہیں گے اُڑیں گے۔ نیچے درجے والوں کو یہ نعمت نہیں ملی ہوگی۔ وہ حیران ہوں گے حالاں کہ وہ بھی جنتی ہوں گے۔ اور وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ان کو یہ اِعزاز واِکرام کس وجہ سے ملا؟ ان کو بتایا جائے گا کہ یہ لوگ رات کی نماز پڑھا کرتے تھے اور تم لوگ سوتے رہتے تھے، یہ لوگ روزہ رکھتے تھے اور تم کھاتے پیتے تھے، یہ خرچ کرتے تھے اور تم بخل کرتے تھے، یہ جان کی بازی لگاتے تھے اور تم بزدل بنے رہتے تھے۔ (ترغیب: 425/1)معلوم ہوا کہ قیامت کے دن عزت حاصل کرنے کے لیے بھی تہجد کی ضرورت ہے۔گناہ سے بچاؤ تہجد کی برکت سے انسان گناہوں سے بھی بچتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نے آپﷺ کی خدمت میں عرض کیا: اے اللہ کے نبی! فلاں آدمی رات بھر تہجد پڑھتا ہے، لیکن صبح چوری بھی کرتا ہے۔ (اس شخص کے متعلق کیا حکم ہے؟) نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب وہ اس گناہ سے رک جائے گا جسے تم بیان کر رہے ہو۔ (مشکوٰۃ المصابیح: رقم 1237)یہ تہجد کی برکت کی وجہ سے ہوگا۔ اب جو لوگ بیعت ہوتے ہیں ، ان لوگوں کو بھی تہجد کی تلقین کی جاتی ہے۔ اور آج بھی کھلی آنکھوں سے ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں کہ جو لوگ کسی سے بیعت ہیں اور رابطے میں ہیں ، خانقاہ آتے جاتے ہیں ، تہجد کی توفیق تقریبًا انہی لوگوں کو ملتی ہے، تقریبًا ان ہی لوگوں میں زیادہ تہجد آپ کو ملے گی۔ دوسرے لوگ خواہ عالم ہی کیوں نہ ہوں جب تک وہ اپنے آپ کو اللہ والوں سے جوڑے نہیں رکھتے، _