گلدستہ سنت جلد نمبر 4 |
صلاحی ب |
|
خریدتے نہیں پرانا بیچتے ہیں ۔ یعنی پرانا خریدتے ہیں اور اسی کو ٹھیک کرکے، رنگ کرکے نیا بنا کر بیچ دیتے ہیں ۔ یہ مسلمان کو دھوکہ دینا ہے۔ اور جنابِ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ دھوکہ دینے والا ہم میں سے نہیں ۔ (صحیح مسلم: رقم 146)قسم کھا کر مال بیچنا چوتھی بات بیان فرمائی کہ سودا ہوتے وقت قسم نہ کھائے۔ قسم کھانے سے سودا تو بِک جاتا ہے، لیکن برکت اُٹھالی جاتی ہے۔ قسم کس کی کھاتے ہیں ؟ اللہ ربّ العزّت کی۔ اللہ تعالیٰ کے نام کو اتنا حقیر کر دیتے ہیں کہ دو سو روپے کی چیز کو بیچ رہے ہوتے ہیں اور درمیان میں اللہ کا نام لے آتے ہیں ۔ کتنے شرم کا مقام ہے کہ چھوٹا موٹا کوئی سودا کرنا ہے، سو دو سو کی بات ہے اور درمیان میں اللہ کے نام کی قسم کھالی۔ فرمایا کہ قسمیں اُٹھانے والے تاجر سے برکتیں اُٹھالی جاتی ہیں ۔قرض بر وقت ادا کرنا ایک اور اہم بات یہ بھی ارشاد فرمائی کہ اگر تاجر کے ذمہ کسی کا قرضہ ہے، کسی پارٹی سے مال لیا ہوا ہے اور Payment کرنی ہے۔ اب ٹال مٹول سے کام نہ لے۔ ادائیگی وقت پر کرنے کی کوشش کرے۔ ہاں ! اگر کسی کو کوئی پریشانی ہے تو محبت کے ساتھ، عاجزی کے ساتھ بتادے کہ غلطی ہوگئی، مجھے معاف کردیجیے! میں کوشش میں ہوں ۔ اپنی طرف سے کوشش میں بالکل کمی نہ کرے۔ نیت پر معاملہ ہے۔ آپ کی نیت پوری ہے سیل نہ ہوئی تو بچت کی گنجایش نکل آئے گی، لیکن اگر نیت کے اندر ہی کھوٹ ہے تو پھر معاملہ بہت مشکل ہے۔ جنابِ رسول اللہﷺ نے فرمایا:إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ. (صحیح البخاري: رقم 1)_