گلدستہ سنت جلد نمبر 4 |
صلاحی ب |
|
فرماتے تھے جو یہ سمجھتا ہو کہ میں مولانا صاحب کو دے کر، امام صاحب کو دے کر کوئی احسان نہیں کر رہا۔ بلکہ یہ مجھ پر احسان کر رہے ہیں کہ میرا ہدیہ قبول کر رہے ہیں ۔ انہوں نے مہربانی فرما کر میرا ہدیہ قبول کرلیا۔ تو ایسے لوگوں کا ہدیہ قبول کرلینا ٹھیک ہے۔سفارش کرنا اسی طرح بعض دفعہ سفارش کرنا پڑتی ہے۔ یہ سفارش کرنا جائز کام کے اندر نیکی ہے۔ رشتہ کے لیے سفارش کرنا، Job کے لیے یعنی نوکری کے لیے سفارش کرنا اور کسی بھی جائز کام کے لیے، نیک کام کے لیے سفارش کرنا عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔ لیکن سفارش کرنے والا اگر سفارش کے عوض ہدیہ لے تو یہ منع ہے۔ کسی کو مجھ سے کوئی کام پڑا کہ حضرت! آپ میری فلاں جگہ سفارش کر دیں ، وہ آپ کے جاننے والے ہیں ۔ ساتھ میں مٹھی بھی گرم کر رہا ہو اور ٹوکرا بھی دے کہ جناب! یہ قبول کرلیں ۔ تو سفارش کرنے پر کسی چیز کو قبول کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ حدیث پاک سنیے! حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو شخص کسی کی سفارش کرے اور اس سفارش کی وجہ سے اس کو ہدیہ میں کوئی چیز ملے، اگر اس نے لے لی تو سود کے دروازوں میں سے بڑے دروازے میں داخل ہوگیا۔ (سنن ابی دائود: رقم 3541)سفارش کرنا نیک کام ہے۔ یہ خدمتِ خلق ہے۔ خدمتِ خلق اللہ کے لیے ہو، پیسوں کے لیے نہ ہو۔ بعض موقعوں پر کسی پریشان حال کی سفارش کرنا واجب بھی ہوجاتا ہے۔ سفارش کے پیسے لینا منع ہے۔ ہدیہ ایک الگ چیز ہے اور رشوت ایک الگ چیز ہے۔ کس کے لیے دے رہے ہیں ؟ نیت ہماری دینے والی چیز کو ہدیہ بھی بناسکتی ہے جس پر محبت ملے گی، اللہ کا قرب ملے گا، سنت پوری ہوگی۔ اور ہماری ہی _