گلدستہ سنت جلد نمبر 4 |
صلاحی ب |
|
سامنے سجدہ ریز ہوگیا۔ اور اللہ تعالیٰ سے کہنے لگا: اے اللہ! تو جانتا ہے ساری دنیا کو میں دھوکا دے سکتا ہوں ، مگر اے اللہ! تجھے نہیں دھوکا دے سکتا۔ اللہ! لاج رکھ لے اور پانی جاری کر دے۔ ابھی سجدے سے سر نہیں اُٹھایا تھا کہ دریائے نیل کا پانی جاری ہوگیا۔تو شیطان کو کہہ سکتے ہیں کہ جو پروردگار بے قراری کی مانگی ہوئی دعا، دل سے مانگی ہوئی دعا فرعون کی قبول کرلیتا ہے جو کہتا تھا:اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى (النازعات: 24)ترجمہ: ’’میں تمہارا اعلیٰ درجے کا پروردگار ہوں ‘‘۔میری دعا کیوں نہیں قبول کرے گا؟میں تو ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی‘‘ کہنے والا ہوں ۔ یہ جواب بنتا ہے شیطان کو دینے کے لیے۔ ایک اور جواب اس سے بھی زیادہ بہترین ہے۔ وہ دے دیں آپ کا یقین او بڑھ جائے گا۔دوسرا جواب شیطان سے کہیں : او بدبخت! تو کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہگاروں کی نہیں سنتا۔ وہ سب کے پروردگار ہیں ۔ شیطان کو یاد دلائو: او بدبخت! تجھے یاد ہے، جب اللہ پاک نے فرمایا: (اُسْجُدُوْا لِآدَمَ) سب نے سجدہ کرلیا تھا، لیکن تُونے نہ کیا۔ تو کھڑا ہوگیا تھا اور تجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے دربار سے نکال دیا تھا۔ اور تجھ سے کہا تھا کہ قیامت تک میری لعنتیں تجھ پربرستی رہیں گی۔ دفع ہو، دور ہو جایہاں سے!شیطان! کیا تجھے وہ وقت یاد ہے؟ راندۂ درگاہ ہونے کے بعد تُونے پروردگار سے مہلت مانگی تھی: اللہ! قیامت تک کی مہلت دے دے۔ تیرے جیسے راندۂ درگاہ کو عین غصے کے عالم میں اللہ تعالیٰ قبول کرسکتے ہیں ، تو میری دعا کیوں قبول نہ ہوگی؟ _