احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
۸… اعجاز الحق بجواب اظہار الحق۔ مصنفہ محمد اسحق قریشی جہلم۔ قادیانی رسالہ ہمارا نقطۂ کا جواب حافظ محمد اسحق قریشی نے کشف التلبیس کے نام سے شائع کیا۔ قادیانیوں نے اس کا جواب ’’اظہار الحق‘‘ کے نام سے ایک رسالہ کی شکل میں شائع کیا۔ جناب قریشی صاحب نے قادیانی رسالہ اظہار الحق کا جواب ’’اعجاز الحق‘‘ کے نام سے اس رسالہ میں دیا۔ اس کے بعد قادیانی کی بولتی بند ہوگئی۔ ۹… سودائے مرزا۔ حکیم ڈاکٹر محمد علیؒ۔ یہ رسالہ ۱۹؍اکتوبر ۱۹۳۱ء میں امرتسر سے شائع ہوا۔ ڈاکٹر حکیم محمد علیؒ صاحب طبیہ کالج دہلی کے سندیافتہ تھے۔ طبیہ کالج امرتسر کے ہیڈ پروفیسر بھی تھے۔ آپ نے اس رسالہ میں طبی دلائل اور مرزاقادیانی کی تحریرات سے ثابت کیا ہے کہ مرزاملعون قادیان، نہ نبی تھا نہ مسیح نہ مجدد اور نہ ہی ولی ومسلم بلکہ مرض مالیخولیا کا مریض تھا۔ اس کے کل الہامات ودعاوی محض مرض مالیخولیا کے باعث تھے۔ ۱۰… مضمون چور۔ علامہ ابوالفضل جبروتی۔ یہ رسالہ ۱۹؍فروری ۱۹۵۰ء میں حضرت علامہ عبدالرشید طالوتؒ نے تحریر کیا۔ ابوالفضل جبروتی آپ کا قلمی نام تھا۔ اس میں ثابت کیاگیا ہے کہ مرزاقادیانی دوسرے حضرات کے مضامین کو چوری کر کے اپنی کتابوں میں شامل کیا کرتا تھا۔ ۱۱… قادیانیت اور اس کے مقتدائ۔ حضرت مولانا محمد نورالحق علویؒ۔ ۲۲؍جولائی ۱۹۳۳ء کو حضرت مصنف نے یہ رسالہ تحریر فرمایا۔ مولانا نورالحقؒ صاحب معروف دانشور جناب غلام جیلانی برق کے بڑے بھائی تھے۔ دارالعلوم دیوبند میں مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ سے آپ نے دورہ حدیث کیا۔ لاہور میں ردقادیانیت کے لئے ایک جماعت مستشار العلماء پنجاب قائم کی۔ حضرت مولانا محمد خلیلؒ صدر اور مولانا نجم الدینؒ پروفیسر اورینٹل کالج لاہور نائب صدر، مولانا نور الحقؒ ناظم عمومی مقرر ہوئے۔ مستشار العلماء کے تحت پہلا رسالہ یہ شائع ہوا۔ ۱۲… التعرف بیوذ آسف۔ حضرت مولانا نورالحق علویؒ نے یہ رسالہ تحریر فرمایا۔ مرزاقادیانی ملعون نے یوذ آسف کو یسوع مسیح ثابت کرنا چاہا۔ پھر یوذ آسف کی قبر کشمیر کو مسیح علیہ السلام کی قبر ثابت کرنے کے درپے ہوا۔ دجل دردجل، کذب درکذب، فراڈ در فراڈ کے بعد ایک ایسا مؤقف پیش کیا۔ مسلمان، مسیحی، یہودی، تینوں آسمانی مذاہب کے پیروکاروں میں سے ایک شخص نے بھی مرزاقادیانی کے مؤقف کو تسلیم نہ کیا۔ نتیجتاً مرزاقادیانی ملعون کے حصہ میں سوائے دھوکہ دہی کی ابدی لعنت کے اور کچھ نہ آیا۔