احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
کی اس رسالہ میں کہانی سپردقلم کی۔ عبدالرحمن مصری جو لاہوری مرزائی تھا۔ اس نے مرزا محمود کے کردار اور ظلم وستم کی کہانی اس رسالہ میں بیان کرکے مرزا محمود کے ظلم وستم وبدکرداری کو چیلنج کیا۔ اس رسالہ میں عبدالرحمن وحبیب الرحمن خان کابلی قادیانی کے قلم سے حقائق شائع ہوئے۔ مرزا محمود کو کھلے الفاظ میں قادیانیوں نے چیلنج کیا۔ مرزا محمود نے کمال ڈھیٹ پن کا عملاً مظاہرہ کیا۔ تفصیل اس رسالہ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ ۴… محکوم مسلم، کھینچواں نبی، بشیر پتر،بخاری کا ڈنڈا۔ جناب عبداللطیف گجراتی نے چار نظمیں پنجابی زبان میں تحریر کیں۔ پہلی نظم کا نام ’’کھینچواں نبی‘‘ ہے۔ دوسری نظم کا نام ’’بشیر پتر‘‘ ہے۔ یہ نظم مولانا سید دائود غزنوی کی زیر صدارت احرار تبلیغ کانفرنس لائل پور میں پڑھی گئی۔ تیسری نظم کا نام ’’محکوم مسلم‘‘ ہے۔ یہ نظم حضرت امیر شریعت سید عطاء اﷲ شاہ بخاریؒ کی زیر صدارت راولپنڈی کے اجتماع میں پڑھی گئی۔ چوتھی نظم کا نام ’’بخاری داڈنڈا‘‘ ہے۔ چار نظموں پر مشتمل یہ رسالہ تقسیم سے قبل شائع ہوا۔ محترم جناب کامریڈ عبدالکریم احراری وزیرآبادی نے اسے شائع کیا۔ ۵… مرزائی احمدیوں کی شرمناک رسوائی۔ جناب عبدالقدیر امروھوی کا مضمون جو پہلے القاسم دیوبند رجب ۱۳۳۹ء میں شائع ہوا۔ پھر رسالہ کی شکل میں شائع ہوا۔ اس میں :۱…موریشش افریقہ کی مسجد سے قادیانیوں کی قانونی بے دخلی۔۲…سیدنا مہدی، سیدنا مسیح علیہم السلام اور قادیانی ملعون۔ ۳… محمدی بیگم کا نکاح اور قادیانی ملعون۔ ۴… سلطان بیگ اور مرزا قادیانی۔ ان چار طریقوں پر مرزائیوں کی رسوائی اور مرزا ملعون قادیانی کے کذب کو واضح کیا گیاہے۔ نوے سال بعد دوبارہ شائع کرنے کی مجلس کو سعادت نصیب ہورہی ہے۔ ۶… رشدوہدایت۔ ابوالمحاسن محمدارشد نے یہ رسالہ قادیانی عبدالرحیم مرزائی کے جواب میں تحریر فرمایا۔ جناب محمدارشد صاحبؒ، حضرت مونگیریؒ کے حلقہ ارادت سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے عبدالرحیم قادیانی کے جواب میں یہ رسالہ تحریر کیا۔ اس میں حضرت مولانا سید محمدعلی مونگیریؒ کی خدمات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ۷… کشف التلبیس۔ مصنفہ حافظ محمداسحق قریشی جہلم۔ حضرت مولانا عبداللطیف صاحبؒ بانی ومہتمم جامعہ حنفیہ جہلم اکابر علماء حق میں تھے۔ آپ کے بیان سے مسجد ومنبر کے درودیوار سے حق کی گونج ایسے بلند ہوتی تھی جو قادیانی کفر کو گرم توے پر رقص کرادینے کے مترادف تھی۔ جہلم قادیانی جماعت کے سیکرٹری نے ستمبر۱۹۶۶ میں رسالہ تحریر کیا’’ہمارا نقطہ نظر‘‘ جس میں قادیانی عقائد کو پیش کرتے ہوئے حضرت مولانا عبداللطیفؒ کو نشانہ تنقید بنایا گیا۔ جناب محمد اسحق قریشی نے اس رسالہ میں قادیانی رسالہ کا منہ توڑ جواب دیا۔