احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
چنانچہ حسب تحریر حکیم صاحب مولانا موصوف کی خدمت میں جوابی کارڈ تحریر کیاگیا۔ اس کے جواب میں مولانا ممدوح کے مہتمم مطبع نے جو کچھ تحریر فرمایا ہے ذیل میں بلفظ درج کیا جاتا ہے۔ مکرمی وعلیکم السلام! آپ کے دو خط آئے جواباً گذارش ہے۔ قادیانیوں کا محض دھوکا ہے۔ مولوی محمد علی صاحب ناظم ندوہ کی نہ یہاں سے تکفیر ہوئی ہے، نہ عرب شریف سے، کفر کے فتوے آئے۔ ہاں ندوہ کارد البتہ کیا گیا اور اس کے رد میں عرب شریف سے فتویٰ آئے جو فتاویٰ الحرمین میں شائع ہوئے۔ اس میں کہیں مولوی محمد علی صاحب کی تکفیر نہیں ہے۔ اب فتاویٰ الحرمین یہاں نہیں رہا۔ ورنہ ضرور بھیجا جاتا۔ بمبئی والوں نے چھاپا تھا۔ اسی زمانہ میں تقسیم کردیا۔ البتہ غلام احمد قادیانی کی تکفیر علمائے حرمین شریفین نے کی جو حسام الحرمین میں موجود ہے۔ مگر اب حسام الحرمین کی جلدیں بھی دوتین ماہ سے ختم ہوگئی ہیں۔ البتہ حسام الحرمین عربی بلاترجمہ شاید دو ایک نسخہ مل جائے۔ اس کی ضرورت ہوگی تو بھیج دیا جائے گا۔ رسائل ردقادیانی جو دفتر میں موجود ہیں۔ روانہ کئے جاتے ہیں۔ امجد علی اعظمی مہتمم مطبع اہل سنت بریلی، ۸؍رجب ۱۳۳۴ھ اب ہم اس کا انصاف معزز ناظرین ہی سے چاہتے ہیں کہ کیا اس سے بڑھ کر افتراء سازی کی کوئی دوسری مثال مل سکتی ہے؟ ہر گز نہیں۔ خیال فرمائیے یہ کیسا سیاہ جھوٹ ہے کہ میرا حوالہ درست ہے۔ حالانکہ کہیں نام ونشان تک نہیں اور یہ کیسا صریح افتراء ہے کہ مولانا احمد رضا خان صاحب نے ان کی تکفیر کا فتویٰ مکہ معظمہ سے منگوایا تھا۔ داراںحالانکہ نہ ان کے یہاں سے کوئی فتویٰ حضرت مولانا مدظلہ پر تکفیر کا دیا گیا اور نہ عرب شریف کے علماء نے کوئی فتویٰ اس طرح کا تحریر فرمایا اور نہ مولانا احمد رضا خان صاحب نے منگوایا۔ مگر ہزار آفرین حکیم صاحب کے ایمان وتقویٰ پر کہ محض جھوٹ مع حوالہ صفحہ آپ کے لکھ مارا کہ فتاویٰ الحرمین کے ص۳۸،۳۹ میں مولوی محمد علی صاحب پر کفر کا فتویٰ موجود ہے۔ حالانکہ اس میں حضرت مولانا مدظلہ کا کہیں نام ونشان تک نہیں ہے۔ یہی راز تھا جس کی وجہ سے حکیم صاحب نے ناظم ندوہ کے بعد ہلال میں مولوی محمد علی لکھ کر اپنے اعمال نامہ کو سیاہ کیا اور افراد بہتان کی ناپاک غلاظت سے اپنی کتاب کو متلوث کیا اور اس کا