احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
احمدیہ فیلوشپ آف یوتھ لاہور کا ٹریکٹ نمبر۱۱ لکھا ہوا ہے۔ اشتہار اﷲ بخش سٹیم پریس قادیاں سے شائع ہوا ہے۔ اشتہار مذکور کے اخیر میں تحریر ہے۔ ’’اگر مرزاقادیانی خدا کی طرف سے نہ ہوتے تو یہ کس طرح ممکن تھا کہ آپ کی تعلیم پر عمل کرنے والوں پر خدا کا کلام نازل ہوتا اور خود خدا کی سریلی مگر دل میں پیوست ہو جانے والی صدا کو وہ اپنے کانوں سے سنتے۔‘‘
لیجئے! پہلے فقط مرزاقادیانی کا رونا تھا کہ انہوں نے اپنے وساوس واوہام کو وحی والہام قرار دے کر ختم نبوت کو توڑا۔ اب تو ہر ایک قادیانی کا دعویٰ ہے کہ مجھ پر کلام الٰہی نازل ہوتا ہے اور ہر لونڈا خود خدا کی سریلی صدائیں اپنے کانوں سے سنتا ہے۔ جبریل امین کی ضرورت ہی باقی نہیں۔ ابو الخطاب کی روح کا اس سے بڑھ کر تصرف کیا ہوسکتا ہے۔ قادیانیوں کو اس بارے میں سخت غلط فہمی ہوئی ہے۔ خود خداتعالیٰ نے اس کا فیصلہ ان مقدس الفاظ میں کیا ہے۔ ’’ان الشیاطین لیوحون الیٰ اولیائہم (الانعام:۱۲۱) ’’زخرف القول غروراً (الانعام:۱۱۲)‘‘ {درحقیقت شیطان اپنے دوستوں کو غلط (صحیح نما) اور دھوکہ دینے والی باتیں … کرتے ہیں۔ (جنہں وہ خدا کا کلام اور اس کی سریلی صدائیں سمجھتے ہیں)}
حضرت شیخ حسین ہندی سے ہم نے سنا کہ آپ آیت ذیل کی تفسیر بعینہ یہی کرتے تھے جو اس اشتہار میں درج ہے۔ سورۂ حم السجدہ میں ارشاد ہے۔ ’’وقیضنا لہم قرنا فزینوا لہم مابین ایدیہم وما خلفہم‘‘ {ہم نے ان (کفار) پر چند ہم نشین (شیاطین) مسلط کر دئیے ہیں جو انہیں ان کی پس وپیش کی چیزیں (مثلاً خیالات ووساوس) آراستہ کر کے دکھاتے ہیں۔ (کہ یہ کلام الٰہی ہے اور خدا کی سریلی صدائیں ہیں)}
خداوند تعالیٰ معیار نبوت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ’’اﷲ اعلم حیث یجعل رسالتہ‘‘ (یعنی نبوت کسبی نہیں) مگر قادیان کی خانہ ساز نبوت کے سایہ میں ہر بھٹکے ہوئے کو وحی ہورہی ہے۔ اس پر کلام الٰہی نازل ہورہا ہے۔ وہ خدا کی سریلی صدا اپنے کانوں سے سن رہا ہے۔ سورۂ زخرف میں خداتعالیٰ نے سچ فرمایا ہے۔
’’ومن یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہ شیطاناً فہولہ قرین‘‘ {جو شخص خداتعالیٰ کے ذکر وکلام الٰہی کتاب مجید سے غافل ہوکر اعراض کرے (اور خود ساختہ نبوتوں کا پیرو بنے) ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں جو (ہموارہ) اس کا ہم نشین رہتا ہے۔}
علیٰ ہذا القیاس مختار بن ابی عبید رافضی مدعی نبوت برائے خود عبداﷲ بن سبا رافضی