احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
۲… امامیہ میں سے فرقہ محمدیہ جارودیہ کی طرح محمد بن عبداﷲ (نفس زکیہ) کی غیبت ورجعت کا معتقد ہے۔ باقریہ حضرت امام محمد باقر کی رجعت کے قائل ہیں۔ ناووسیہ امام جعفر صادق کو زندہ مانتے ہیں اور ان کی رجعت کے قائل ہیں۔ یہ خیال ان کے جو شخص جعفر کہلانا تھا۔ وہ درحقیقت جعفر نہ تھا۔ امام جعفر اخیر زمانہ میں تشریف لائیںگے۔ موسویہ امام موسیٰ بن جعفر کے متعلق کہتے ہیں کہ آپ فوت نہیں ہوئے۔
واپس تشریف لائیںگے۔ اسماعیلیہ کا عقیدہ ہے کہ اسماعیل بن جعفر فوت نہیں ہوئے۔ حالانکہ اہل تاریخ کا اجماع ہے کہ اسماعیل اپنے والد کی حیات میں فوت ہوگئے۔ قطعیہ (ان کو اثنا عشریہ بھی کہتے ہیں) کا عقیدہ ہے کہ امام غائب بارہویں امام محمد بن حسن ہیں۔ امام مذکور کے متعلق پھر اختلاف ہے کہ آپ کب پیدا ہوئے۔ بقول بعض آپ ۲۶۰ھ میں پیدا ہوئے اور اسی سال آپ کے والد ماجد امام حسن عسکری کا انتقال ہوا۔ بعض کا خیال ہے کہ آپ والد ماجد کی وفات سے ایک عرصہ بعد پیدا ہوئے۔ ایک گروہ کے نزدیک آپ والد مقدس کی حیات میں پیدا ہوئے۔
بعد ازاں جب آپ کا سن چار سال کو پہنچا آپ کے والد نے انتقال کیا اور بعض کے یہاں آٹھ سال کی عمر میں آپ کے والد فوت ہوئے اور نوسال کی روایت گذر چکی ہے۔
نیز اس میں بھی اختلاف ہوا ہے کہ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام آیا نرگس تھا یا صقیل، یا سوسن۔
امام ابو محمد علی بن احمد بن حزم متوفی ۴۰۶ھ کتاب الفصل میں لکھتے ہیں۔ ’’ولم یعقب الحسن المذکور لا ذکراً ولا انثی وان ہذا المولود لم یخلق قط (ج۴ ص۱۸۱)‘‘ {اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ حضرت ام حسن العسکری امام یازدہم کی کوئی اولاد نہ تھی۔ نہ بیٹا نہ بیٹی اور نام ابوالقاسم محمد پیداہی نہیں ہوئے۔}
۳… کیسانیہ (اتباع کیسان، مختار بن ابی عبید) حضرت امام محمد بن حنفیہ کی غیبت ورجعت کے قائل ہیں۔ بخیال ان کے آپ کوہ رضویٰ (از مدینہ طیبہ) میں غائب ہوکر مقیم ہیں اور واپس تشریف لائیںگے۔ (دیکھو کتاب الفرق از ص۲۲تاص۴۷)
امام محمد بن عبدالکریم شہرستانی متوفی ۵۴۸ھ کتاب (الملل ج۱ ص۲۰۰) میں لکھتے ہیں۔ ’’مختار پہلا شخص ہے جس نے مسئلہ غیبت ورجعت امام اختراع کیا۔ پھر (کثیرعزہ) اور سیدبن