احتساب قادیانیت جلد نمبر 31 |
|
مرزاسلطان محمد کا مرزاقادیانی کی منکوحہ آسمانی سے نکاح کر لینا اس سے بڑھ کر مرزاقادیانی کی تکذیب کا کوئی اور اشتہار ہو سکتا ہے؟ حتیٰ کہ ۱۹۰۸ء میں مرزاقادیانی آنجہانی ہوگئے اور مرزاسلطان محمد زندہ رہا۔ اب مرزائی سیکرٹری الفضل سے مرزاسلطان محمد کا ایک بیان نقل کرتا ہے۔ جو ۱۹۲۱ء میں شائع ہوا ہے۔ گویا مرزاقادیانی کی موت کے ۱۳سال بعد وہ تائب ہوا۔ کون ان حواس باختہ لوگوں سے پوچھے کہ اگر وہ توبہ کرتا اور مرزاقادیانی کو نبی مان لیتا تو وہ محمدی بیگم کو طلاق کیوں نہ دے دیتا۔ تاکہ مرزاقادیانی کی پیش گوئی ثابت ہو جائے اور پھر محمدی بیگم کیوں نہ مرزاقادیانی پر ایمان لے آتی جو ان کے بعد ۵۸سال تک زندہ رہی۔ اگر بالفرض محمدی بیگم بھی تائب ہو جاتی تب بھی مرزاقادیانی کی پیش گوئی پوری ہونے کی کوئی دلیل نہیں تھی۔ کیونکہ انہوں نے صاف لکھ دیا تھا کہ محمدی بیگم ضرور میرے نکاح میں آئے گی۔ چنانچہ ان کے الفاظ یہ ہیں۔ ’’خداتعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لائے گا اور بے دینوں کو مسلمان بنادے گا۔ سو خداتعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں۔ تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اس کی اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خداتعالیٰ کی باتوں کو ٹال سکے۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص۲۸۶،۲۸۷، خزائن ج۵ ص ایضاً، کشف التلبیس ص۳۸) ہم پوچھتے ہیں کہ جب اﷲتعالیٰ نے مرزاقادیانی سے یہ پختہ وعدہ کیا تھا کہ محمدی بیگم کو ضرور ان کے نکاح میں لائے گا اور ہر ایک روک کو دور کرے گا تو اس میں مرزاسلطان محمد کی توبہ یا عدم توبہ کا کیا دخل ہے۔ پیش گوئی کے مطابق محمدی بیگم نے مرزاقادیانی کے نکاح میں ضرور آنا تھا۔ لیکن چونکہ ایسا نہیں ہوا۔ اس لئے ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی کی یہ پیش گوئی جھوٹی تھی اور خود ساختہ تھی اور اگر مرزائی سیکرٹری اس پیش گوئی کو خدا کی طرف سے مانتا ہے تو پھر ثابت ہوا کہ مرزائیوں کا خدا وہ نہیں جو ’’علیٰ کل شیٔ قدیر‘‘ ہے بلکہ وہ تو نعوذ باﷲ مرزاسلطان محمد اور محمدی بیگم کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ کیا محمدی بیگم کا ۱۹؍نومبر ۱۹۶۶ء تک زندہ رہنا مرزاقادیانی کی تردید کے لئے ایک عام فہم زبردست خدائی نشان نہیں ہے؟ وما علینا الا البلاغ! حافظ محمد اسحاق قریشی جہلم شہر