گلدستہ سنت جلد نمبر 1 |
|
ہیں، میرے لیے بھی ہیں اور آپ کے لیے بھی ہیں کئی باتوںکی وجہ سے دل روتا ہے۔ اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہہ رہا ہوں کہ دل میںتکلیف میںہوتی ہے ۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: کَمَا تَعِیْشُوْنَ تَمُوْتُوْنَ (مرقاۃ المفاتیح) ’’جیسی تم زندگی گزارو گے ویسی ہی تمہیں موت آئے گی‘‘۔ اُصول بتادیا تو اب ہم نے دیکھنا ہے کہ ہم اب کس ڈھب سے زندگی گزاررہے ہیں۔ اگر ہم باوضو زندگی گزاریں گے تو ان شاء اللہ ہمیں باوضو موت آئے گی۔ لیکن آج کل ہم ٹی وی کے سامنے زندگی گزار رہے ہیں۔ ہر وقت گانے، بے حیا عورتیں سامنے ناچ رہی ہوتی ہیں اور ہم شوق سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔مجھے کئی دفعہ موقع ملا مختلف Hospitalsکے ICUمیں گیا ، اُن لوگوں کی عیادت کی جن کی عمر ستر سال سے زیادہ تھی۔ ایک صاحب کے پاس گیا وہ ریڈیو سن رہے تھے، کمنٹری لگی ہوئی تھی۔ ایک اور صاحب کے پاس گیا تو میرے خیال سے ان کی عمر ستر سال سے زیادہ تھی، ٹی وی چل رہا تھا، ناچ گانے چل رہے تھے اور و ہ صاحب ان کو دیکھ رہے تھے۔ تو مجھے حدیث یاد آئی کہ آقاﷺ نے فرمادیاتھا کہ جیسی زندگی گزارو گے ویسی ہی موت آئے گی۔ تم نے ناچ گانے کے ساتھ زندگی گزاری ہے موت کلمہ پر کیسے ملے گی۔ موت بھی پھر اسی طرح آئے گی کہ ICUمیں ہیں۔ مرنے کا وقت قریب ہے کوئی پتا نہیں کس وقت دنیا سے چلے جائیں، اس وقت بھی ناچ گانے کو دیکھ رہے ہیں نامحرموں کو دیکھ رہے ہیں۔ کَمَا تَعِیْشُوْنَ تَمُوْتُوْنَ ’’جیسی تم زندگی گزارو گے ویسی ہی موت آئے گی‘‘۔