خزائن الحدیث |
|
اس وقت میری روح ایسی قوی تجلی کا مشاہدہ کر رہی تھی کہ میرے عناصرِ بدن ہوش و حواس کو قابو میں نہ رکھ سکے ؎ دید جانم آں تجلی آں زماں جبرئیلے را تحمل نیست زاں میری روح وہ تجلیاتِ خدا وندی دیکھ رہی تھی کہ جس کا تحمل جبرئیل علیہ السلام بھی نہیں کر سکتے ؎ جانِ ما چو لذّتِ حق را چشید عقلِ ما در عائشہ شد نا رسید میری روح اس وقت تجلیاتِ قرب کی ایسی لذت چکھ رہی تھی کہ میرے عقل و ہوش عائشہ کو پہچاننے سے قاصر ہو گئے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے مقاماتِ قرب کا کیا کہنا ہے کہ آپ تو سید الانبیاء ہیں،اس اُمت کے غلاموں میںیہ شان ہے کہ میرے مرشد شاہ عبدالغنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کئی کئی گھنٹے عبادت کرتے تھے۔ ایک بار میرے پیر بھائی ماسٹر عین الحق صاحب حضرت! والا کی خدمت میں ایک ضروری کاغذ پر دستخط کرانے کے لیے حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضرت اس کاغذ پر دستخط کردیجیے۔ حضرت رات کے تین بجے کے اُٹھے ہوئے، تہجد کی بارہ رکعات اور سجدہ میں دیر تک رونا پھر بارہ تسبیحات پھر فجر کی نماز کے بعد تلاوت، مناجاتِ مقبول، قصیدہ بردہ شریف اور اللہ کے نام میں مست۔ میرے شیخ کی عبادت عاشقانہ عبادت تھی، زاہدانہ عبادت نہیں تھی۔ آہ و فغاں کے ساتھ عبادت کرتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کئی وقت کا بھوکا کباب بریانی کھارہا ہے اور ہر دس بیس آیت کے بعد اللہ کا نعرہ اس زور سے مارتے تھے کہ مسجد ہل جاتی تھی۔ حضرت نے آنکھ بند کر کے بہت سوچا کہ میرا کیا نام ہے۔ جب یاد نہیں آیا تو ان ہی سے پوچھا کہ میرا کیا نام ہے؟ پوربی زبان کا یہ شعر حضرت کی اس حالت کاترجمان تھا ؎ یس من مور لبد گئے توں ہیں سمرن نام بسر گئے موں ہیں اے خدا! میرا دل آپ سے ایسا چپک گیا کہ اے میرے محبوب! مجھے اپنا نام بھی یاد نہیں آ رہا ہے۔ اپنا ہی نام پوچھنے پر ماسٹر عین الحق صاحب کو ہنسی آگئی۔ حضرت نے ڈانٹ کر فرمایا کہ بتاتے کیوں نہیں ہو؟ تب انہوں