خزائن الحدیث |
|
شقاوت اور بد بختی کی خاصیت ہے، ورنہ اگر معصیت میںیہ خاصیت نہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عنوان سے کیوں پناہ مانگی؟ دوستو! ہمت سے کام لو، ڈھیلے مت بنو، ڈِھیلا ہوا کہ ڈَھیلا ہوا۔ اللہ نے ہمت دی ہے، ہمت چور نہ بنو۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس نے ہمت کو استعمال کیا اللہ تعالیٰ کی مدد بھی آجاتی ہے۔ بعض لوگوں کو چالیس چالیس برس تک ایک گناہ کی عادت تھی، ہمت سے کام لیااور نجات پا گئے۔حدیث نمبر ۹ اَنْ تَعْبُدَ اللہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ؎ ترجمہ: تم اﷲ تعالیٰ کی ایسی عبادت کرو کہ گویا کہ تم اﷲ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو اور اگر تم اﷲ کو نہیں دیکھتے ہو تو وہ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے۔کیفیتِ احسانی کے انعامات اور طریقۂ تحصیل حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:اَنْ تَعْبُدَ اللہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ اس طرح عبادت کرو کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ تم اگر اللہ کو نہیں دیکھتے ہو تواللہ تو تمہیں دیکھتا ہے۔بعض لوگوں نے اس سے یہ سمجھا کہ احسانی کیفیت کے دو درجے ہیں:۱) ہم اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہیں اور ۲)یہ کہ اللہ تعالیٰ ہم کو دیکھ رہے ہیں مگر قطب العالم حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایاکہ دوسرا درجہ جو ہے وہ اس مراقبہ کی علّت ہے لہٰذا یہ دو درجے نہیں ہیں ایک ہی درجہ ہے کہ ہم اپنے اللہ کو دیکھ رہے ہیں کیوں کہ اگر ہم نہیں دیکھتے تو اللہ تعالیٰ تو ہم کو دیکھ رہا ہے تو گویا ہم بھی دیکھ رہے ہیں۔ دنیا میں کَاَنَّکَ رہے گا اور جنت میں اللہ تعالیٰ کَاَنَّکَ کا کاف نکال دیں گے وہاں اَنَّکَسے دیکھو گے۔ دنیا میں آنکھیں ------------------------------