خزائن الحدیث |
|
نے کہا کہ حضرت! آپ کانام عبدالغنی ہے۔ حضرت نے دستخط کیے اور یہ ڈر کے مارے وہاں سے بھاگ گئے۔ اللہ تعالیٰ کا احسان و کرم ہے کہ اختر کو سترہ سال تک ایسے شیخ کی صحبت و خدمت عطا فرمائی، جس کو بارہ مرتبہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اور ایک مرتبہ ایسی زیارت نصیب ہوئی کہ مجھ سے فرمایا کہ میں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مبارک آنکھوں کے لال لال ڈورے بھی خواب میں دیکھے اور خواب ہی میں پوچھا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)!کیا عبدالغنی نے آپ کو خوب دیکھ لیا؟ ارشاد ہوا کہ ہاں، عبدالغنی! تم نے اپنے اللہ کے رسول کو آج خوب دیکھ لیا۔ حضرت کو دیکھنے ہی سے لگتا تھا کہ یہ شخص اپنے وقت کا شمس الدین تبریزی ہے ؎ یاد ایّامے کہ در مے خانہ منزل داشتم جامِ مے در دست و جاناں در مقابل داشتم وہ دن یاد آتے ہیں کہ شیخ کے اس مے خانۂ محبت میں اختر بھی مقیم تھا۔ اللہ کی شرابِ محبت کا پیالہ ہاتھ میں اور میرا شیخ میرے سامنے ہوتا تھا۔