خزائن الحدیث |
|
میں مبتلا ہونا پڑے گا۔ یہ گلیاں تو اس قابل بھی نہیں کہ ان کا تذکرہ کیا جائے لیکن کر دیتا ہوں تاکہ ان کی حقیقت معلوم رہے، ورنہ کبھی دھوکا لگ جائے گا کہ شایدیہ گلی والے بھی کوئی اونچا مقام رکھتے ہیں،یہ سب نیچا مقام رکھتےہیں۔ ارے ! جو نیچے مقامات کی تلاش میں رہتے ہیں وہ نیچے لوگ ہیں۔ مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک بدعتی سے مناظرہ ہوا۔ بدعتی نے کہا کہ میں نے آپ کو نیچادِکھا دیا۔ حضرت مفتی صاحب صدر مفتی دیوبند تھے، فرمایا کہ جی ہاں! ہم نے آپ کا نیچا دیکھ لیا۔ اللہ والوں کی حاضر جوابی ملاحظہ کیجیے۔ سارے مجمع میں شور ہو گیا اور وہ بدعتی ایک ہی جملے سے ہار کے بھاگ گیا۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:مَنْ عَشِقَ وَکَتَمَ وَعَفَّ ثُمَّ مَاتَ فَھُوَ شَہِیْدٌ کہ جس کو کسی سے عشق ہو گیا اور اس نے اپنے عشق کو چھپا یاوَعَفَّاور پاک دامن رہا، نہ جسم سے حرام لذت لی اور نہ دل میں اس معشوق کا خیال پکایا ثُمَّ مَاتَ پھر اُسی گھٹن اور مجاہدہ میں مر گیا تو وہ شہید ہے۔شرح حدیث بعنوانِ دِگر مَنْ عَشِقَ وَکَتَمَ وَ عَفَّ فَمَاتَ فَھُوَ شَھِیْدٌ؎حدیثمَنْ عَشِقَ وَکَتَمَ کی تشریح اگر کوئی ایسا عاشق مزاج ہے کہ اس کو کسی کا عشق لگ گیاالتشرّف بمعرفۃ احادیث التصوّف میں بھی یہ حدیث ہے مَنْ عَشِقَ وَکَتَمَ وَعَفَّ جو عاشق ہوگیا اور اپنے عشق کو چھپایا، کسی پر ظاہر نہیں کیا، نہ اُس معشوق سے زبان سے کہااور نہ ہاتھ سے اشارہ کیا، نہ اس کو خط لکھا کہ میں آپ کے عشق میں بے چین ہوں، اپنے عشق کو دل میں پوشیدہ رکھا وَعَفَّ اور پاک دامن رہا، نہ آنکھوں سے اسے دیکھااور نہ پاؤں سے اس کے پاس چل کرگیا، نہ ہاتھ سے اس کو چھوا، نہ زبان سے اس سے باتیں کیں، نہ کان سے اس کی باتیں سنیں، پوری ہمت سے کام لیا کہ نہ جسم کو اس کے قریب کیا نہ دل میں اس کا خیال پکایا فَمَاتَ پھر اسی گھٹن اور شدتِ غم سے مرگیا فَھُوَ شَھِیْدٌتو وہ شہیدہوگا۔ یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا کلامِ نبوت ہے، لہٰذا جو اس حدیثِ پاک کا مصداق ہوگا وہ یقیناً شہیدہے۔ اس میں کتنی بڑی بشارت ہے ان عاشق مزاجوں کے لیے جو باوجود انتہائی عاشقانہ مزاج کے عفیف اور پاک دامن رہیں۔ مولانا روم رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ؎ ------------------------------