خزائن الحدیث |
|
محبت کی عظیم الشان کرامت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سوال کیا کہ جو آدمی کسی قوم سے محبت رکھے (یعنی علماء و صلحاء سے محبت رکھتا ہے۔ مرقاۃ) وَلَمْ یَلْحَقْ بِھِمْ اور ان کے اعمالِ نافلہ اور ریاضاتِ شاقہ میں ان کا ساتھ نہ دے سکا، تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ؎۔ ملّا علی قاری رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں اَیْ یُحْشَرُ مَعَ مَحْبُوْبِہٖ وَیَکُوْنُ رَفِیْقًا لِّمَطْلُوْبِہٖ قَالَ تَعَالٰی: وَ مَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا۔محبت کی برکت سے اس محب کا حشر اپنے محبوب کے ساتھ ہو گا اور اسی کا رفیق ہو گا۔ جیسا کہ حق تعالیٰ شانہٗ کا ارشاد ہے کہ جو اللہ اور رسول کا مطیع ہو گا وہ اُن ہی منعم علیہم انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین کے ساتھ ہو گا۔ایک اِشکال اور اس کا جواب محبت کی کرامت سے محبوب کی معیت کی تائید میں ملّا علی قاری نے جو آیت پیش کی ہے، اس میں تو اطاعت کی قید ہے محبت کا لفظ ہی نہیں۔ جواب یہ ہے کہ اطاعت محبتِ کاملہ صادقہ کے لیے لازم ہے۔ پس اس آیت میں ملزوم کی تعبیر لازم سے کی گئی ہے، جو فنِ بلاغت میں علاقہ مجاز مرسل کہلاتا ہے اور اصطلاح میں اس کو تَسْمِیَۃُ الْمَلْزُوْمِ بِاسْمِ اللَّازِمِکہتے ہیں۔ چناں چہ ملّا علی قاری رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں وَمِنْ عَلَامَۃِ الْمَحَبَّۃِ الصَّادِقَۃِ اَنْ یَّخْتَارَ اَمْرَالْمَحْبُوْبِ وَنَھْیَہٗ عَلٰی مُرَادِ غَیْرِہٖ وَلِذَا قَالَتْ رَابِعَۃُ الْعَدْوِیَّۃُ ؎ تَعْصِی الْاِلٰہَ وَاَنْتَ تُظْھِرُ حُبَّہٗ ھٰذَا لَعَمْرِیْ فِی الْقِیَاسِ بَدِیْعٗ لَوْکَانَ حُبُّکَ صَادِقًا لَّاَطَعْتَہٗ اِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ یُّحِبُّ مُطِیْعٗ ترجمہ: محبتِ صادقہ کی علامت یہ ہے کہ محبوب کے حکم کو بجا لائے اور نہی سے رک جائے اور غیر محبوب کو ------------------------------