خزائن الحدیث |
|
پس ارادہ کیا میں نے کہ کشتی کو عیب دار کروں اور جب معاملہ دیوار سیدھی کرنے کا آیا تو اپنے رب کی طرف نسبت کی:
فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنۡ یَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّہُمَا وَ یَسۡتَخۡرِجَا کَنۡزَہُمَا ٭ۖ رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ ؎
لہٰذا دوستو! حق بات بے شک کہو، ڈٹ کر کہو، مگر موقع محل دیکھ کر ادب اور سلیقہ سے کہو جیسے شکاری جس چڑیا کا شکار کرنا چاہتا ہے تو اس کی بولی بھی سیکھتا ہے ورنہ وہ بھاگ جائے گی، اگر شاعر آیا ہے تو دو تین شعر پڑھ کر اس کو اﷲ کے عشق میں پھنساؤ، اگر ڈاکٹر ہے تو اس کو تھوڑی سی ڈاکٹری بھی سناؤ مثلاً اس سے کہو کہ فرانس کے ڈاکٹر پاگلوں کو مسواک کراتے ہیں جس سے گندا مواد ان کے دماغ سے نکلتا ہے اور وہ ٹھیک ہورہے ہیں اور ہم اپنے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اس مبارک سنت کو چھوڑے ہوئے ہیں، حالاں کہ مسواک سے نماز کا ثواب ستّر گنا بڑھ جاتا ہے اور کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنے سے ایک ایسا لعاب نکلتا ہے جس سے کھانا ہضم ہوجاتا ہے۔ یہ ڈاکٹروں کا تجربہ ہے، لیکن ہم ڈاکٹروں کے تجربہ کی وجہ سے انگلیاں نہیں چاٹتے، بلکہ اپنے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اِتباع میں چاٹتے ہیں۔ بالفرض اگر ڈاکٹر منع بھی کریں تو ہم ان کی نہیں مانیں گے، اپنے نبی کی مانیں گے۔ اسی طرح کھانے کا برتن صاف کرنا بھی سنت ہے، کیوں کہ برتن دعا دیتا ہے کہ اے اﷲ! اس کو جہنم کی آگ سے اس طرح بچا جس طرح اس نے مجھے شیطان سے بچایا، اس حدیث کو علامہ شامی رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنی کتاب شامی جلد نمبر ۵ ؍کتاب الحظر والاباحۃ میں نقل فرمایا ہے۔
راہِ حق میں طعن و ملامت سے نہ ڈریں
اورچھٹی نصیحت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ فرمائیلَا تَخَفْ فِی اللہِ لَوْمَۃَ لَا ئِمٍاﷲ کو راضی کرنے میں کسی کی ملامت کا خوف نہ کرو، اگر کوئی ہنستا ہے تو ہنسنے دو، اگر کسی آدمی کو سخت پیاس لگی ہے اور کوئی شخص اسے ٹھنڈا شربت پلائے اور یہ جگہ اور بستی ایسی ہے کہ جہاں شربت پینے والوں کا مذاق اُڑایا جاتا ہے، تو آپ بتائیں کہ کیا یہ پیاسا شخص لوگوں کے مذاق اُڑانے کے خوف سے شربت پینا چھوڑ دے گا؟ تو اﷲ تعالیٰ سے اس کی محبت کی ایسی ہی پیاس مانگو کہ سارے عالم کی ملامتیں تمہیں اﷲ کی فرماں برداری کرنے سے نہ روک سکیں۔
اگر کوئی شکاری مچھلی شکار کرکے اسے دوبارہ دریا میں چھوڑ دے،تو وہ دوبارہ دریا میں جائے گی یا
------------------------------