خزائن الحدیث |
|
حدیث نمبر۵۶ سَبَقَ الْمُفَرِّدُوْنَ قَالُوْا: وَمَا الْمُفَرِّدُوْنَ یَا رَسُوْلَ اللہِ ؟ قَالَ الذَّاکِرُوْنَ اللہَ کَثِیْرًا وَّالذَّاکِرَاتُ؎ ترجمہ:مفردون سبقت لے گئے۔ صحابۂ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے پوچھا:یارسول اﷲ!مفردون کون لوگ ہیں؟ تو آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اﷲتعالیٰ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں۔ حدیث میں آتا ہے سَبَقَ الْمُفَرِّدُوْنَ مفردون یعنی عاشق بازی لے گئے، وہ لوگ جو عاشقانہ ذکر کرتے ہیں۔اَلْمُفَرِّدُوْنَ کا ترجمہ عاشقون حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ نے کیا ہے۔ پھر میں نے ملّا علی قاری کی مرقاۃ شرح مشکوٰۃ دیکھی کہ اَلْمُفَرِّدُوْنَ کی انہوں نے کیا شرح کی ہے،ملّا علی قاری فرماتے ہیں: اَلَّذِیْنَ لَا لَذَّۃَ لَھُمْ اِلَّابِذِکْرِہٖ وَلَا نِعْمَۃَ لَھُمْ اِلَّا بِشُکْرِہٖ؎ مُفَرِّدُوْنَ سے مراد اللہ تعالیٰ کے عاشقوں کا وہ طبقہ ہے جن کو دنیا میں کہیں مزہ نہ آئے سوائے اللہ کے نام کے۔ بیوی بچے، کھانا پینا، تجارت اورمکان انہیں جب اچھا معلوم ہوتا ہے جب پہلے اللہ کا نام لے لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کے بعد ان کو دنیاوی نعمت میں لذت ملتی ہے اور کوئی نعمت انہیں نعمت نہیں معلوم ہوتی، مگر جب اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر لیتے ہیں۔ شیخ محی الدین ابو زکریا نووی رحمۃ اﷲ علیہ نے شرح مسلم میں اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے ایک دوسری روایت نقل کی ہے کہمُفَرِّدُوْنَکے معنیٰ ہیں کہ جو حالتِ ذکر میں وجد میں آ جائیں اَلَّذِیْنَ اھْتَزُّوْافِیْ ذِکْرِاللہِ، اِہْتِزَازْ کے کیا معنیٰ ہیں؟ جب بارش ہوتی ہے تو زمین پھولتی ہے، حرکت میں آجاتی ہے تو معنیٰ یہ ہوئے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ کے نام سے ان میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے، جھوم جاتے ہیں اَیْ ------------------------------