خزائن الحدیث |
|
گا، آج تو چند کتابیں پڑھ لیں اور علامہ بن گئے، یہ لوگ عَلَّامَہْ نہیںظَلَّامَہْ ہیں۔ تو علامہ ابن حجر عسقلانی تمام مجموعۂ احادیث کی روشنی میں فرماتے ہیں کہ فَاِنَّ ظَاہِرَالْاَحَادِیْثِ یَدُلُّ عَلٰی تَحْرِیْمِ الْاِسْبَالِ تمام احادیث دلالت کرتی ہیں کہ ٹخنہ چھپانا حرام ہے۔حدیث نمبر۵۸ لَا یَقْعُدُ قَوْمٌ یَّذْکُرُوْنَ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ اِلَّا حَفَّتْھُمُ الْمَلٰئِکَۃُ وَغَشِیَتْھُمُ الرَّحْمَۃُ وَنَزَلَتْ عَلَیْھِمُ السَّکِیْنَۃُ وَذَکَرَھُمُ اللہُ فِیْ مَنْ عِنْدَہٗ؎ ترجمہ:کوئی قوم بیٹھ کر اﷲ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتی، مگر یہ کہ فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور رحمتِ الٰہی ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور ان پر سکینہ نازل ہوتا ہے اور اﷲ تعالیٰ بھی ان کا ذکر کرتے ہیں فرشتوں کی جماعت میں،جو اس کے پاس ہوتی ہے۔پہلی فضیلت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جہاں کہیں کچھ اللہ کے بندے مل کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو وہاں فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں، تو آپ سوچئے کہ ان کی ملاقات بھی ہوتی ہے یا نہیں؟ تو فرشتوں کی ملاقات سے ہم پر اچھا اثر نہیں آئے گا؟ کیا وہ نیک صحبت نہیں ہے؟ لہٰذا ذکر کی مجلس میں شرکت کی کوشش کیجیے۔ عقل میں جو آ جائے وہ خدا ہو ہی نہیں سکتا، کیوں کہ عقل محدود ہے، محدود میں غیر محدود کیسے آئے گا؟ اگر کسی کے عقل میں آ جائے کہ خدا یہ ہے تو ہر گز وہ خدا نہیں ہو سکتا، کیوں کہ اللہ غیر محدود ہے، وہ محدود عقل میں کیسے آئے گا۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے منع فرما دیا کہ خبردار! مخلوق میں تو غور و فکر کرو مگر اللہ کی ذات میں مت سوچو،تمہاری قوتِ عقلیہ اور فکریہ محدود ہے۔ بھلا ایک گلاس میں ------------------------------