خزائن الحدیث |
|
ترجمہ: اے اﷲ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں صحت کا اور پاکدامنی کا اور امانت کا اور اچھے اخلاق کا اور تقدیر پر راضی رہنے کا اور مرنے کے بعد والی زندگی کا۔حدیثِ صحت کی عجیب تشریح حدیث میں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحت کی جو دعا بارگاہِ حق میں عرض کی ہے اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الصِّحَّۃَ وَالْعِفَّۃَ وَالْاَمَانَۃَ وَ حُسْنَ الْخُلْقِ وَالرِّضَا بِالْقَدَرِ وَ الْعَیْشَ بَعْدَ الْمَوْتِتو اس ترتیب میں خاص علوم ہیں۔ صحت کے بعد ہر لفظ کو صحت سے خاص تعلق ہے۔ ہر مقصد بعد صحت جو مذکور ہے صحت کا موقوف علیہ ہے، چناں چہ صحت کے لیے عفت ضروری ہے، غیر عفیف اکثر بیمار ہوجاتا ہے اور عفت کے لیے امانت ضروری ہے۔ امانتِ چشم و صدر خاص طور سے اہم ہے اور امانت نام ہے مالک کے عطا فرمودہ اعضاء کو اور ان کی قوّتوں کو مالک کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا۔ پس امانت کے خلاف استعمال سے صحت کو نقصان اس وجہ سے بھی پہنچتاہے کہ خیانت معصیت ہے اور ہر معصیت قلب کو بے سکون کرتی ہے اور بے سکونئ قلب صحت کو خراب کرتی ہے خواہ کتنی ہی عمدہ غذا کھائے، اسی طرح حسنِ خلق سے صحت کو نفع ہوتا ہے۔ اگر مغلوب الغضب ہو یا مغلوب الشہوت ہو یا بے صبر ہو یا حریص ہو یا قانع نہ ہو یا توکل نہ ہو، تو ہر خلق کی خرابی سے تشویش پیدا ہوتی ہے۔ غضب سے بلڈپریشر بڑھ جاتا ہے اور عدم توکل و بے صبری سے ضعف ہو کر بلڈپریشر ضرور ت سے زیادہ کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح رضا بالقدر پر یعنی فیصلۂ الٰہی پر راضی نہ رہنے سے دل پریشان رہتا ہے جس سے صحت کو نقصان ہوتا ہے، کوئی غذا جسم کو نہیں لگتی، آدمی صاحبِ فراش ہو جاتا ہے اور عیش بعد الموت رضا بالقضاء کے لیے معین ہے، ورنہ آدمی افلاس یا کسی تکلیف میں ہو تو مستقبل اور وطن کی راحت کی امید پر سفر کی صعوبت کا تحمل آسان ہوسکتا ہے۔ حضرت اقدس مولانا شاہ محمد ابرار الحق صاحب (رحمۃ اﷲ علیہ) نے اس تقریر کو بہت پسند فرمایا اور ڈاکٹروں کے اجتماع میں احقر سے خطاب کرایا تھا۔شرحِ حدیث بعنوانِ دِگر حدیث دعائے صحت کی الہامی تشریح حدیثِ پاک میں ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحت کے لیےیوں دعا فرمائی ہے: