خزائن الحدیث |
|
لہٰذا سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نےفاء تعقیبیہ لگا دی کہ اے اللہ! معاف کرنے میں دیر نہ کیجیے، جلد معاف کر دیجیے کیوں کہ معاف کرنا آپ کو خود محبوب ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ! آپ بہت زیادہ معاف کرنے والے ہیں، کثیر العفو ہیں، نالائقوں کو اور ناقابلِ معافی مجرموں اور خطا کاروں کو آپ صرف معاف ہی نہیں فرماتے بلکہ آپ کی ایک صفت اور بھی ہے کہتُحِبُّ الْعَفْوَ بندوں کو معاف کرنا آپ کو نہایت محبوب ہے اَیْ اَنْتَ تُحِبُّ ظُھُوْرَ صِفَۃِ الْعَفْوِ عَلٰی عِبَادِکَ اپنے گناہ گار بندوں پر اپنی صفتِ عفو کا ظاہر کرنا آپ کو نہایت محبوب ہے یعنی اپنے گناہ گاروں کو بخشنے کے عمل سے خود آپ کو پیار ہے۔ ہم جب اپنے کسی ستانے والے کو معاف کرتے ہیں تو بوجہ بشریت کے ہم کو مزہ نہیں آتا لیکن اللہ تعالیٰ کی شانِ الوہیت اور شانِ ربوبیت اور اللہ تعالیٰ کے مزاجِ عظیم الشان کا عارف حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی نہیں، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ محبوب اور مقرب ہیں کہ آپ کے صدقہ میں یہ کائنات پیدا کی گئی۔ جیسا کہ حدیثِ قدسی میں اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں: لَوْلَا کَ مَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ؎ اے محمد! (صلی اﷲ علیہ وسلم) اگر آپ کو میں پیدا نہ کرتا تو زمین و آسمان کو ہی پیدا نہ کرتا۔ صاحبِ قصیدہ بردہ کا کیا پیارا شعر ہے ؎ فَکَیْفَ تَدْعُوْ اِلَی الدُّنْیَا ضَرُوْرَۃُ مَنْ لَوْ لَاہُ لَمْ تَخْرُجِ الدُّنْیَا مِنَ الْعَدَمٖ دنیوی ضرورت آپ کو دنیا کی طرف کیسے بلا سکتی ہے، جب کہ اگر آپ نہ ہوتے تو دنیا خود ہی عدم سے وجود میں نہ آتی۔ دنیا اپنے وجود میں آپ کی محتاج تھی، تو آپ کیسے دنیا کے محتاج ہو سکتے ہیں؟ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے مزاجِ مبارک و عالیشان کے سب سے بڑے مزاج شناس سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں اس لیے آپ امت کو آگاہ فرما رہے ہیں کہ تمہارے رب کا مزاجِ عظیم الشان یہ ہے کہ اپنے بندوں کو معاف کرنا ان کو بہت زیادہ محبوب ہے، لہٰذا کہو فَاعْفُ عَنِّیْ ہم کو معاف فرما دیجیے اور کیوں کہ معاف کرنا آپ کو محبوب ہے، لہٰذا ------------------------------